وزیراعظم نوازشریف کا مستعفی نہ ہونےکادوٹوک اعلان -
The news is by your side.

Advertisement

وزیراعظم نوازشریف کا مستعفی نہ ہونےکادوٹوک اعلان

اسلام آباد: وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا کہناہےاندھیروں کو بستیوں،اپنےکارخانوں کارخ نہیں کردیں گے۔انہوں نےکہاکہ جمہوریت فروس سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ کیوں دوں۔

تفصیلات کےمطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم نوازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کےاجلاس کےدوران کہاکہ جےآئی ٹی رپورٹ مفروضوں،الزامات اوربہتانوں کامجموعہ ہے۔

وزیراعظم پاکستان نےکہاکہ اربوں کےمنصوبے لگ رہےہیں کوئی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔ انہوں نےکہاکہ استعفےکامطالبہ کرنےوالوں کےمجموعی ووٹ سےزیادہ ووٹ لیے۔

وزیراعظم نوازشریف نےکہاکہ ہمارضمیراور دامن صاف ہے،4سال میں ہم نےتعمیروترقی کااتناکام کیاجتنا2دہائیوں میں نہیں ہوا۔ا انہوں نےکہاکہ اندھیروں کوبستیوں،اپنےکارخانوں کارخ نہیں کرنےدیں گے۔

وزیراعظم نے اجلاس کےدوران کہاکہ جمہوریت فروش سازشی ٹولےکےکہنےپراستعفیٰ کیوں دوں؟اللہ کےفضل وکرم سےمیرےضمیرپرکوئی بوجھ نہیں۔ انہوں نےکہاکہ1985سےآج تک ایک پیسےکی خوردبردبھی نہیں کی۔

انہوں نےکہاکہ پاکستان ماضی میں ایسےتماشوں کی بھاری قیمت اداکرچکاہے،ایسےتماشوں کاسلسلہ اب بندہوناچاہیے۔

وزیراعظم نوازشریف نے وفاقی کابینہ کےاجلاس میں مستعفی نہ ہونےکادوٹوک اعلان کردیا جبکہ وفاقی کابینہ نے وزیراعظم کےاعلان کاخیرمقدم ڈیسک بجاکر کیا۔

خیال رہے کہ اس ہنگامی اجلاس کو طلب کرنے کا فیصلہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک ’غیررسمی اجلاس‘ میں کیا گیا،اس اجلاس میں وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ کے قریبی وزراء، اور اٹارنی جنرل اشتراوصاف علی سمیت قانونی ٹیم موجود تھی۔

یاد رہےکہ گزشتہ روزوزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہاتھا کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہوں گے، کیا نواز شریف کو اس لیے استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ ان کے خلاف عوامی دولت کے غلط استعمال کا کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا؟۔


وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ اسمبلیاں تحلیل ہوں گی: اجلاس میں فیصلہ


واضح رہےکہ گزشتہ روزوزیر اعظم کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس میں طے ہوگیا تھا کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ اسمبلیاں تحلیل ہوں گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں