The news is by your side.

Advertisement

منفرد ایجاد، 9 سالہ بچے نے انجینئرز کو پیچھے چھوڑ دیا

نیروبی: امریقی ملک کینیا میں 9 سالہ بچے نے ’ہینڈ واشنگ مشین‘ تیار کرکے سب کو حیران کردیا، ملکی صدر نے اعزاز کے طور پر اسے خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نو سالہ ’واموکوٹا‘ نامی بچے نے منفرد طریقہ اپناتے ہوئے لکڑیوں، ڈرم اور نٹ بولڈ کی مدد سے کروناوائرس کے پیش نظر ’ہینڈ واشنگ مشین‘ تیار کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کینیا میں ایسے 68 افراد کو خصوصی ایوارڈز سے نوازا گیا ہے جنہیوں نے کروناوائرس کے پیش نظر اہم اور ناقابل فراموش اقدامات اٹھائے ان میں 9 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

کینیا کے صدر ’اورھو کنیاٹا‘ کا کہنا ہے کہ پیروں کی مدد سے استعمال ہونے والی ہینڈ واشنگ مشین تیار کرنے کی صورت میں بچے کی حوصلہ افزائی اور اسے خراج تحسین کے طور پر ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا۔

مشین کو ہاتھ لگانے کی صورت میں ممکنہ کرونا وائرس کی منتقلی کے خطرے کی پیش نظر اسے پاؤں کے استعمال کے ساتھ منصوب کیا گیا ہے۔ مشین کے نیچے دو خصوصی ’فوٹ پیڈل‘ نصب کیے گئے اسے دبانے کی صورت میں از خود صافن اور پانی کا بہاؤ شروع ہوجاتا ہے۔ پانی یا صابن ختم ہونے کی صورت میں اسے دوبارہ بھرنے کی بھی سہولت موجود ہے۔

بچے کا کہنا ہے کہ اس نے یہ مشین اپنے والد کی مدد سے تیار کی جس میں تقریباً 30 ڈالر لاگت آئی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں