The news is by your side.

Advertisement

بلیک ہول کا پُراسرار زار ، جسے انسانی آنکھ نے پہلے کبھی نہیں دیکھا

لندن: برطانوی ماہرین فلکیات نے بلیک ہول کے مرکز میں پیدا ہونے والی تابکاری کے عمل سے نکلنے والی شعاعوں کی تصویر پہلی بار حاصل کرلی۔

تفصیلات کے مطابق ماہرین فلکیات نے بلیک ہول کے گرد پیدا ہونے والی تابکاری کے عمل سے نکلنے والی شعاعوں کی ایسی بے مثال مختصر ویڈیو حاصل کی ہے جسے انسانی آنکھ نے اس سے پہلے نہیں دیکھا۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق سولر سسٹم میں موجود بلیک ہول کے مرکز میں پیدا ہونے والی تابکاری کے عمل سے نکلنے والی شعاعوں کے ذریعے ماہرین فلکیات ایک اور اہم راز سے روشناس ہوئے۔

برطانیہ میں واقع ’ساؤت امٹن‘ یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق میں خطریر رقم خرچ ہوئی ہے، جس میں جدید ٹیکنالوجی سے لیز کیمروں کا استعمال کیا گیا ہے۔

ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ شعاعوں کا یہ عمل بیلک ہول میں موجود گریوٹی اور میگنٹک فیلڈ کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔

برطانوی ماہرین نے کیناری جزیرے سے اپنا تحقیقی ٹیلی اسکوپ استعمال کیا تاہم تابکاری کے عمل سے نکلنے والی شعاعوں کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے انہوں نے عالمی ادارے ناسا سے مدد حاصل کی۔

بلیک ہول کی پہلی تصویرجاری کردی گئی

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس بلیک ہول پر شعاعیں نکل رہی ہیں اس کا وزن تقریباً سورج سے زیادہ 7 گنا زیادہ ہے، لیکن حجم کے لحاظ سے برطانوی شہر لندن سے بھی چھوٹا ہے۔

خیال رہے کہ 10 اپریل 2019 کا دن سائنسی تاریخ کا ایک اہم دن تھا کیونکہ ماہرین فلکیات طویل عرصے سے سحر زدہ کیے رکھنے والے بلیک ہول کی پہلی تصویر لینے میں کامیاب ہوئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں