The news is by your side.

Advertisement

حاکمِ اعلیٰ کا جنونِ لطیفہ

بدقسمتی سے اگر کوئی افسر لطیفہ گوئی کا بیمار ہوا تو سمجھ لیجیے کہ بے چارے ماتحتوں کی مصیبت آگئی، کیوں کہ صاحب کے روکھے پھیکے، گھسے پٹے لطیفوں (جس پر ہنسنا تو ہنسنا، رونا بھی نہ آسکے) کو سن کر ان بے چاروں کو اپنی نوکری برقرار رکھنے کے لیے دیوارِ قہقہہ بننا پڑتا ہے۔

ایک دفتر کے حاکمِ اعلیٰ بھی اس مرض میں مبتلا تھے۔ اکثر اپنے ماتحتوں کو بور کیا کرتے تھے۔ ایک دن اسی طرح لطیفہ گوئی ہو رہی تھی اور افسر صاحب کے بلند و بانگ قہقہوں کے ساتھ ان کے اسسٹنٹ صاحبان بھی قہقہے میں قہقہہ ملا رہے تھے، لیکن ایک صاحب غیر معمولی طور پر بالکل خاموش اور بے توجہ بیٹھے رہے۔

کسی نے پوچھا، ’’آپ کیوں خاموش ہیں؟‘‘

وہ صاحب برجستہ بول پڑے، ’’میں کیوں ہنسوں، میں تو کل سے ریٹائر ہو رہا ہوں۔‘‘

(سرور جمال کی تحریر سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں