The news is by your side.

Advertisement

ہرن کیوں‌ پچھتایا؟

ایک جنگل میں‌ ہرن کو پیاس لگی تو وہ اپنے محفوظ ٹھکانے سے نکلا اور ادھر ادھر نظر دوڑائی کہ آس پاس کوئی درندہ تو چھپا ہوا نہیں‌ ہے۔ اطمینان کرنے کے بعد وہ دریا کی طرف بڑھنے لگا۔

قسمت اچّھی تھی، راستے میں کسی سے مڈ بھیڑ نہ ہوئی اور وہ دریا کنارے پہنچ گیا۔ دریا کے صاف شفاف اور میٹھے پانی سے سیراب ہونے کے لیے اس نے اپنا منہ ڈالا تو اُس آبِ زُلال میں اپنا سر نظر آیا۔

وہ اپنے سَر پر موجود سینگوں کو دیکھنے لگا اور کچھ دیر بعد دکھ، غصّے اور بے بسی کی ملی جلی کیفیت میں افسوس سے کہنے لگا کہ اگر میرے دبلے دبلے پاؤں اس خوب صورت شاخ دار سَر کی مانند ہوتے تو میں اپنے دشمنوں کو خاطر میں‌ نہ لاتا۔ ان کے لیے مجھے ہڑپ کرنا یوں آسان نہ ہوتا اور منہ کی کھاتے۔

وہ ہرن اسی سوچ میں‌ گم تھا کہ اچانک شکاری کتّوں کے بھونکنے کی آواز اُس کے کان میں‌ پڑی جو لمحہ بہ لمحہ قریب ہوتی جارہی تھی۔ ہرن گھبرایا اور سوچا کہ اب کیا کروں، کتے اس کے قریب آچکے تھے۔ اس نے چوکڑی بھری اور ذرا فاصلے پر موجود درختوں کے جھنڈ میں گُم ہونے کے ارادے سے گھستا چلا گیا۔

ہرن تیز رفتار اور پھرتیلا جانور تھا، وہ انھیں کہیں کا کہیں پیچھے چھوڑ چکا تھا، لیکن کتے اس کے تعاقب میں تھے۔ درختوں کے درمیان پہنچ کر اسے ایک جگہ جھاڑیاں نظر آئیں اور اس نے لمحوں میں فیصلہ کیاکہ وہ ان کے اندر سے ہوتا ہوا مزید آگے نکل جاسکتا ہے۔ وہ جیسے ہی جھاڑیوں میں گھسا، اس کے سینگ کانٹوں میں اُلجھ گئے۔ اس نے اپنے سَر کو بارہا جھٹکا، لیکن سینگ ان جھاڑیوں میں ایسے پھنسے کہ چھڑا نہ سکا۔

اسی کوشش کے دوران اس نے دیکھا کہ چار پانچ کتے اس کے سَر پر پہنچنے کو ہیں۔ آخر کتوں نے ہرن پر حملہ کردیا اور اسے شکار کرکے اپنا پیٹ بھرنے میں کام یاب ہوگئے۔

کتوں کے حملہ کرنے کے بعد جب ہرن نے دیکھا کہ اب اس کی موت یقینی ہے، تب اس نے ٹھنڈی آہ بھری اور نہایت افسوس سے کہنے لگا! دوستوں کو میں نے دشمن سمجھا اور دشمنوں کو دوست۔ میں اپنی شاخوں(سینگوں) پر فریفتہ ہوا تھا، مگر انھوں نے مجھے اس مصیبت میں گرفتار کیا، اور اپنے پاؤں کی طرف حقارت سے دیکھا تھا، لیکن پاؤں ہی کے سبب تو دریا سے بھاگ کر جنگل تک آیا تھا اور ہر بار یہی تو میری جان بچاتے رہے ہیں۔

ہرن کو خیال آیا کہ وہ تو اس بار بھی اپنی ٹانگوں ہی کی بدولت سارا میدان طے کر آیا تھا، لیکن جب اس نے قدرت کی صنعت گری میں تعجب کیا اور عیب نکالا تو اس کا یہ حال ہوا۔

کہتے ہیں، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس کی صنعت و تخلیق میں عیب تلاش کرنے والا نادان دراصل اس کی حکمتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔

(ماخذ: کتاب جوہرِ اخلاق)

Comments

یہ بھی پڑھیں