The news is by your side.

Advertisement

“کیا بال بچّے ہونے تک بال بچے رہیں گے؟”

مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ میرے بالوں کے جھڑنے کا عمل پہلے شروع ہوا تھا یا ان میں سفیدی جھلکنے کی ابتدا پہلے ہوئی تھی، لیکن جب آئینے سے وحشت شروع ہوئی تو آدھے سے زیادہ بال داغِ مفارقت دے چکے تھے۔ پسماندگان میں بچے کھچے بال بیوگی کا سفید لبادہ اوڑھے کنپٹیوں اور سَر کے پیچھے ڈٹے، ستی کی رسم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے نظر آئے۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ گنجا پن دولت آنے کی نشانی ہے۔ مجھے اس مفروضے پر ہمیشہ سے شک رہا ہے، کیوں کہ ایسی صورت میں انکم ٹیکس اور انفورسمنٹ ڈائریکٹریٹ والے اپنے ڈیٹا بیس میں شہر کے تمام گنجے لوگوں کی فہرست تیار رکھتے بلکہ ان کے افسران بھیس بدل کر راہ چلتے لوگوں کے بال نوچتے پھرتے کہ کہیں کوئی اپنی جیولری اور پراپرٹی وِگ میں تو چھپائے نہیں پھر رہا ہے۔ البتّہ وِپرو کے مالک عظیم پریم جی کے ساتھ یہ طریقۂ تفتیش اپنانے پر متعلقہ افسران کو معطلی یا تبادلے کا سامنا کرنا پڑتا۔

عورتیں عموماً اس وبالِ جان سے پیدائشی طور پر مستثنیٰ ہیں (یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہزاروں کروڑ پتی ہیں لیکن ”کروڑ پتنی“ گنتی کے چند)۔ اگر ان کی یہ استثنائی حیثیت ختم ہو جائے تو دنیا کے تمام بیوٹی پارلرز بند ہو جائیں گے۔ شیمپو، تیل اور کنگھی بنانے والی فیکٹریوں میں تالے لگ جائیں گے۔ البتّہ اسکارف اور حجاب بنانے اور فروخت کرنے والوں کی چاندی ہو جائے گی۔

شادی شدہ جوڑے دوسروں کی شادی کی تقاریب میں وقت پر بلکہ بعض اوقات وقت سے پہلے پہنچ پائیں گے۔ عورتوں کی آپسی ہاتھا پائی کی نوعیت میں بھی قدرے تبدیلی آئے گی کہ روایتی گتھم گتھا کے انداز میں ترمیم کی ضرورت پیش آئے گی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ گنجا پن عقل اور علم و دانش کے اعلیٰ درجے پر ہونے کا غماز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر پروفیسر، ڈاکٹر، دانش وَر اور سائنس داں وغیرہ گنجے ہوتے ہیں (البرٹ آئن اسٹائن نے تحقیق میں بھی چیٹنگ کی ہوگی! یقین نہیں آتا)۔ لہٰذا عورتوں کی مذکورہ استثنائی حیثیت کے در پردہ حقیقت۔۔۔ خیر، چھوڑیے اس بات کو۔ ہم کون ہوتے ہیں مشیتِ ایزدی میں دخل دینے والے۔

کالج کے دنوں میں اکثر فکر دامن گیر ہوتی کہ کیا بال بچّے ہونے تک بال بچے رہیں گے؟ مگر پھر خیال آیا جب اوپر والے نے راکیش روشن اور اکشے کھنّہ کو نہیں بخشا تو میری کیا وقعت؟ لہٰذا کثرتِ استغفار کے ساتھ گڑگڑا کر دعا کی یا مولا، بھلے ہی وقت سے قبل میرے بالوں کو سفید کر دے کہ اسے خضاب کا حجاب حاصل ہوگا مگر جھڑنے کے عذاب سے محفوظ رکھ، لیکن افسوس، دعا کے صرف پہلے حصے کو شرفِ قبولیت حاصل ہوا، اور یوں دہرے عذاب میں مبتلا ہوا۔

(جاوید نہال حَشمی کے فکاہیہ سے مقتبس)

Comments

یہ بھی پڑھیں