The news is by your side.

Advertisement

جنرل ڈکسن، انگریز جاسوس یا اسلام کے شیدا، تصوف کے شیفتہ؟

خواجہ حسن نظامی اردو کے نام ور ادیب اور متعدد کتابوں کے مصنّف تھے۔ وہ مشہور بزرگ حضرت نظام الدین اولیا کے عقیدت مند تھے اور خود بھی‌ پیری مریدی کا سلسلہ بھی رکھتے تھے۔

خواجہ حسن نظامی نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی تھی جو بہت مشہور ہوئی اور اسی آپ بیتی کے ایک باب میں جہاں انھوں نے اپنی فکرِ معاش اور مالی مشکل کو بیان کیا ہے وہیں اپنے ایک غیر ملکی محسن کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے۔

اس دور (تنگ دستی) میں حسن نظامی نے اہلِ درگاہ کی مروّجہ طرزِ معاش کو ترک کر دیا تھا اور کسی ظاہری سہارے کے نہ ہونے کے سبب روٹی کا میسر آنا محال نظر آتا تھا۔

خدا مغفرت کرے حسن نظامی کی سابق زوجہ حبیب بانو کو جنھوں نے اس تلخ اور بھوک میں سلانے والے وقت میں اپنے شوہر کا نہایت رازداری کے ساتھ حقِ رفاقت ادا کیا۔

اسی زمانہ کے آخر میں خدا تعالٰی نے غیبی مدد بھیجی اور ایک یورپین جنرل ڈکسن سے ملاقات ہوئی جو اسلام کے شیدا اور تصوف کے شیفتہ تھے اور ہر سال لندن سے دہلی آتے تھے۔

جنرل ڈکسن کے ہاتھوں اللہ تعالٰی نے حسن نظامی کی وسعتِ رزق کا فتحِ باب فرمایا۔ جنرل موصوف ہر سال کے شروع میں اتنی کثیر رقم دیتے تھے جس سے تمام برس کے اخراجات فراغت سے ہو جاتے تھے اور حسن نظامی کو مشاغلِ علمی میں مصارفِ خانگی کا فکر و تردد نہ کرنا پڑتا تھا۔

جنرل ڈکسن پہلے شخص تھے جنھوں نے اسلامی اور روحانی تعلق میں حسن نظامی کو اپنا پیر سمجھا تھا اور حسن نظامی کو بھی پہلا تجربہ ایک انگریز کی اخلاص شعاری اور بے غرض دوست نوازی کا ہوا تھا۔

وہ وقت بھی عجیب تھا، خلقت کہتی تھی کہ یہ انگریز کوئی جاسوس ہے جو مہینوں دہلی آ کر رہتا ہے اور گھنٹوں حسن نظامی کے حجرہ میں تخلیہ رکھتا ہے۔ کوئی کہتا، حسن نظامی کرسٹان(کرسچن) ہو گیا جو انگریز کے ساتھ کھاتا پیتا ہے، کوئی کہتا، انگریزوں کی قوم بڑی چالاک ہے خبر نہیں یہ انگریز کس منصوبہ کو لے کر آیا ہے اور کیوں حجرہ کے اندر کواڑ بند کر کے چپکے چپکے باتیں کیا کرتا ہے۔

مگر حسن نظامی کہہ سکتا ہے کہ جنرل ڈکسن کسی سیاسی غرض کے آدمی نہ تھے، ان کو اسلام اور مسلمین کے ساتھ ایک عشق تھا۔ وہ صوفیوں کی روش کے عاشق زار تھے۔ ان کو روحانی ریاضتوں اور سلوکِ تصوف کے اسرار معلوم کرنے کا شوق تھا۔

وہ اسلامی دنیا کے بہت بڑے سیّاح تھے۔ سوڈان و ٹرانسوال کے محاربات میں انھوں نے بڑے بڑے کام کیے تھے۔ مصر کے مفتی محمد عبدہ سے ان کی دوستی رہ چکی تھی۔ ہندوستان میں موجودہ مہاراجہ گوالیار و بیکانیر و نواب صاحب رام پور ان کے دوست تھے۔ ان کی عمر ساٹھ سے زیادہ تھی، وہ بڑے تجربہ کار اور جہاں دیدہ انگریز تھے۔ اردو بولتے تھے اور کچھ اردو لکھ پڑھ بھی سکتے تھے۔

جنرل ڈکسن جنگِ یورپ (پہلی جنگِ عظیم) کے بعد پھر ہندوستان نہیں آئے، نہ ان کا خط آیا تاہم سنا ہے کہ وہ زندہ ہیں (خدا ان کو زندہ رکھے)۔ وہ انگریزی خصلت کا نمونہ تھے، اگر ایسے ملن سار اور محبت شعار انگریز ہندوستان کی حکومت پر مقرر ہوا کریں تو موجودہ باہمی نفرت حاکم و محکوم میں کبھی پیدا نہ ہو۔

حسن نظامی ان کا ذکر اس واسطے لکھتا ہے کہ ان کے احسانات کو زندگی حاصل ہو اور ان کی یاد حسن نظامی کے ذکر میں ہمیشہ سلامت رہے کہ وہ دورِ دشوار کے غیبی فرشتہ تھے جن کو خدا نے حسن نظامی کی مدد کے لیے بھیجا تھا۔

فراغت زمانہ میں ایک روسی بھی حسن نظامی کا مرید ہوا تھا اور حسن نظامی نے اس کو خرقہ دیا تھا، اپنے ملک میں جا کر اس نے لکھا کہ مجھ کو اپنے پاس فقیر بنا کر رکھو اور تصوف کی تعلیم دو مگر جنگِ یورپ کے سبب مسٹر ہیلی چیف کمشنر دہلی نے مجھ کو اجازت نہ دی اور میں اس روسی کو دہلی نہ بلا سکا۔

قصہ مختصر یہ چند سال ایسے تھے جن میں حسن نظامی نے اخباروں میں مضامین لکھے، تمام قومی جلسوں کی سیر دیکھی، ترقیِ سلوک کے لیے مجاہدات کیے اور اپنے ایک مقصود اور طرزِ عمل قائم کرنے پر مسلسل غور و خوض کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں