The news is by your side.

Advertisement

سراج الدین ظفر حسن و جمال، کیف و مستی کا شاعر

اردو کے مشہور شاعر سراج الدین ظفر کا تعلق ایک علمی اور ادبی گھرانے سے تھا۔ انھوں نے‌ شاعری میں حسن و جمال اور رندی و سرمستی سے متعلق موضوعات کو برتا اور نام کمایا۔

ان کی ایک غزل کے چند اشعار دیکھیے۔

موسمِ گل ترے انعام ابھی باقی ہیں
شہر میں اور گل اندام ابھی باقی ہیں

اور کھل جا کہ معارف کی گزر گاہوں میں
پیچ، اے زلف سیہ فام ابھی باقی ہیں

اک سبو اور کہ لوحِ دل مے نوشاں پر
کچھ نقوشِ سحر و شام ابھی باقی ہیں

ٹھہر اے بادِ سحر، اس گلِ نورستہ کے نام
اور بھی شوق کے پیغام ابھی باقی ہیں

اٹھو اے شب کے غزالو کہ سحر سے پہلے
چند لمحاتِ خوش انجام ابھی باقی ہیں

سراج الدین ظفر کی والدہ بھی اردو کی مشہور لکھاری تھیں، جن کا نام بیگم زینب عبدالقادر تھا جب کہ ان کے نانا فقیر محمد جہلمی سراجُ الاخبار کے مدیر اور حدائق الحنیفہ جیسی بلند پایہ کتاب کے مصنف تھے۔ علمی ماحول میں‌ پروان چڑھنے والے ظفر نے افسانے بھی لکھے۔ تاہم شاعری میں ان کا اسلوب اور موضوعات ان کی پہچان بنے۔ 6 مئی 1972 کو انھوں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لی تھیں۔ وہ کراچی میں‌ آسودہ خاک ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں