The news is by your side.

Advertisement

بھائی آپ کہاں جا رہے ہیں؟

علامہ انور صابری مشہور شاعر تھے۔

تحریکِ آزادی میں پیش پیش رہنے والے انور صابری اپنی شاعری سے آزادی کے متوالوں کا لہو گرماتے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔

لقب ان کا شاعرِانقلاب تھا۔ کہتے ہیں‌ اس زمانے میں‌ انور صابری مشاعروں کی جان ہوا کرتے تھے۔

بڑے تن توش کے آدمی تھے۔ رنگ گہرا سانولا تھا۔ داڑھی سر سید کی داڑھی سے بس اُنیس تھی اور بہ سبب خضاب شب دیجور کو شرماتی تھی۔ بدیہہ گوئی میں کمال حاصل تھا۔ مشہور ہے کہ بیٹھے بیٹھے بیس تیس شعر کہہ دیتے۔ انور صابری سے کئی لطائف بھی منسوب ہیں۔ آپ بھی پڑھیے۔

ایک بار انور صابری کا پاکستان جانا ہوا۔ راولپنڈی کے مشاعرہ میں شرکت کرنی تھی۔ مشاعرے کے بعد دل میں آیا کہ بس سے مری کا سفر کریں اور وہاں گھومیں پھریں۔ اس لیے تنہا ہی نکل کھڑے ہوئے۔ بس میں ان کے ساتھ نشست پر ایک بزرگ خاتون آ کر بیٹھ گئیں۔ انور صابری نے وقت گزاری کے لیے ان سے بات شروع کی اور پوچھا۔

آپ کہاں جا رہی ہیں؟
خاتون نے کہا۔
میں مری جا رہی ہوں۔

صابری صاحب خاموش ہو گئے۔ ان سے خاتون نے بھی پوچھ لیا۔
اور بھائی آپ کہاں جا رہے ہیں؟

انور صابری نے بڑی متانت سے جواب دیا۔
میں ‘‘مرا’’ جارہا ہوں!

Comments

یہ بھی پڑھیں