The news is by your side.

Advertisement

’ارجنٹینا‘ میں ’دستِ صبا‘

ایک دن مسز فیض سے اس سلسلے میں باتیں ہو رہی تھیں تو میں نے کہا کہ فیض تو یہاں ہیں نہیں کہ وہ خود اپنے دوستوں اور عزیزوں کو اپنی کتاب پیش کرتے۔ کیوں نہ ہم کتاب کی اشاعت کے موقع پر کچھ اخبار نویسوں، فیض کے احباب اور عزیزوں کو مدعو کر کے پریس کانفرنس کریں اور کتابیں انہیں فیض کی جانب سے پیش کر دیں۔

خیال رہے کہ یہ بات آج سے تقریباً ساٹھ (60) سال پہلے کی ہے۔ اس زمانے میں کسی کتاب کی اشاعت پر کوئی تقریب منعقد کرنے کا رواج نہ تھا بلکہ اس قسم کی تقریب کا تصور بھی ذہنوں میں نہ تھا۔

چناں چہ جب میں نے مسز فیض سے ایسی تقریب منعقد کرنے کا ذکر کیا تو اسے پریس کانفرنس کا نام ہی دے سکا، کیوں کہ اس زمانے میں انگریزی تقریبِ رونمائی کی ترکیب وضع ہو کر ابھی رائج نہ ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ انگریزی میں (Book Launching ceremony) کی اصطلاح بھی عام طور پر مستعمل نہ تھی۔

اس لیے مسز فیض نے بھی میری مجوزہ تقریب کے متعلق فیض کو پریس کانفرنس کرنے کے متعلق ہی لکھا جس کے جواب میں فیض نے اپنے خط مؤرخہ 25 اکتوبر 1952ء میں لکھا:

’کتاب کی اشاعت کہاں تک پہنچی ہے۔ پریشان افکار کے اس مجموعے کے لیے پریس کانفرنس منعقد کرنا مجھے کچھ مبالغہ سا معلوم ہوتا ہے، لیکن شاید اس میں کچھ فائدہ ہو۔ مجھے ٹھیک سے معلوم نہیں کہ ایسے موقعوں پر کیا کہنا چاہیے۔ شاید کہا جا سکتا ہے کہ تمام ادب خواہ کسی سیاسی نظریے، کسی مکتب فکر یا کسی شخص کے متعلق ہو، بہر صورت قومی اثاثے کا جزو ہے۔ اس لیے حالات کچھ بھی ہوں ادب کی تخلیق بہر صورت ایک قومی خدمت کی ادائیگی ہے، جس کا کچھ اعتراف اور کچھ قدر ہونی چاہیے۔

شاید ابھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر خادمِ قوم کی طرح، ہر ادیب کو کم از کم آزادی ضرور میسر ہونی چاہیے کہ وہ خدمت انجام دے سکے۔ اس اعتبار سے اگر اس شخص کی شخصی آزادی کو گزند پہنچایا جائے تو اس اقدام سے صرف اس کی ذات ہی نہیں اور بہت سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔‘

فیض جیل میں تھے اور میرا ادارہ پیپلز پبلشنگ ہاؤس زیرِ عتاب۔ میرے کئی ساتھی بھی جیل میں تھے۔ ان حالات میں ہم لوگوں کی جانب سے کسی تقریب کا انعقاد جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔ سی آئی ڈی والے ہر وقت ساتھ رہتے حتیٰ کہ ریسٹورنٹ کے کارپردازان کو بھی پریشان کیا گیا۔ ایسی صورتِ حال کے پیشِ نظر تقریب کی صدارت کے لیے کسی بااثر شخصیت یا وزیر وغیرہ سے استدعا کرنے کے متعلق سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔

چناں چہ میں نے دیرینہ پڑوسی اور مرّبی جناب عبدُالرحمٰن چغتائی سے صدارت کے لیے درخواست کی جو انہوں نے بلا تأمل قبول کر لی۔ اس سے پیشتر فیض اور میری فرمائش پر وہ ’دستِ صبا‘ کا سرورق بھی ڈیزائن کر چکے تھے۔

چناں چہ 22 دسمبر 1952ء کو بوقت سہ پہر مال روڈ (شاہراہِ قائد اعظم) کے ریسٹورنٹ جس کا نام ’ارجنٹینا‘ تھا، میں یہ پریس کانفرنس یا افتتاحی تقریب منعقد ہوئی اور یہ بات بلامبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں کسی کتاب کی ہی پہلی افتتاحی تقریب رونمائی تھی جو اسی طرز اور اہتمام سے منعقد ہوئی جس طرح کہ آج کل ایسی تقاریب عام طور پر منعقد ہوتی ہیں۔

میں فی زمانہ کتابوں کی منعقد ہونے والی تقاریب رونمائی کی روداد اخباروں میں پڑھتا ہوں تو معاً میرا ذہن ’دستِ صبا‘ کی اشاعت کے موقع پر اپنی طرف سے منعقدہ کردہ تقریب کی طرف چلا جاتا ہے اور فیض کا یہ شعر جو اس زمانے میں ’دستِ صبا‘ کے اشتہارات میں بھی آیا کرتا تھا، یاد آ جاتا ہے۔

ہم نے جو طرزِ فغاں کی ہے قفس میں ایجاد
فیض گلشن میں وہی طرزِ بیاں ٹھہری ہے

(عبدالرؤف ملک کی کتاب سرخ سیاست سے ایک پارہ)

Comments

یہ بھی پڑھیں