The news is by your side.

Advertisement

آ کے ہم کو بھی ”تا” کرے کوئی!

بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری کو ہم سے بچھڑے بیس برس بیت چکے ہیں۔ اردو ادب میں‌ نثر ہو یا نظم طنز و مزاح کے لیے مشہور شخصیات میں‌ ضمیر جعفری‌ کا نام اپنے موضوعات اور شائستہ انداز کی وجہ سے سرِفہرست رہے گا۔

سماج کے مختلف مسائل، خوبیوں اور خامیوں‌ کو اجاگر کرنے کے ساتھ انھوں نے ہماری تفریحِ طبع کا خوب سامان کیا۔

سید ضمیر جعفری نے ہمیشہ پُر وقار انداز میں بامقصد تفریح کا موقع دیا۔ ان کی یہ غزل آپ کو ضرور مسکرانے پر مجبور کردے گی۔

نمکین غزل
شب کو دلیا دلا کرے کوئی
صبح کو ناشتہ کرے کوئی

آدمی سے سلوک دنیا کا
جیسے انڈا تلا کرے کوئی

سوچتا ہوں کہ اس زمانے میں
دادی اماں کو کیا کرے کوئی

جس سے گھر ہی چلے نہ ملک چلے
ایسی تعلیم کیا کرے کوئی

ایسی قسمت کہاں ضمیرؔ اپنی
آ کے پیچھے سے ”تا” کرے کوئی

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں