The news is by your side.

Advertisement

یہ نئے مزاج کا شہر ہے

مشہور شاعر بشیر بدر کی ایک غزل آپ کے ذوقِ مطالعہ کی نذر ہے

 

غزل
یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی  شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے، اُسے چپکے چپکے پڑھا کرو

کوئی  ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو  گلے ملو  گے تپاک  سے
یہ  نئے  مزاج  کا  شہر  ہے، ذرا  فاصلے سے  ملا کرو

ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں، کوئی آئے گا، کوئی جائے گا
تمہیں جس نے دل سے بھلا دیا، اُسے بھولنے کی دعا کرو

مجھے  اشتہار  سی  لگتی  ہیں  یہ   محبتوں  کی   کہانیاں
جو  کہا  نہیں وہ  سنا  کرو،  جو  سنا  نہیں  وہ  کہا  کرو

نہیں بے  حجاب وہ  چاند سا کہ نظر کا  کوئی  اثر نہ ہو
اسے  اتنی  گرمئی شوق سے  بڑی دیر  تک نہ تکا کرو

یہ خزاں کی  زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے  گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں