The news is by your side.

Advertisement

حاجی لق لق کی ‘آمدنی اور خرچ’ پڑھیے

اصل نام تو ان کا عطا محمد تھا، لیکن دنیائے ادب میں حاجی لق لق کے نام سے مشہور ہیں۔ لق لق ان کا تخلّص ہے۔

حاجی لق لق 1898 میں پیدا ہوئے اور 1961 میں لاہور میں وفات پائی۔ طنز و مزاح میں نام ور ہوئے۔ سماجی اور سیاسی موضوعات کو شاعری میں‌ سمویا اور مسائل و مشکلات کی نشان دہی کرتے ہوئے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔

حاجی لق لق نے اس نظم ‘آمدنی اور خرچ’ میں منہگائی اور حالات کے مارے عوام کی مالی مشکلات اور ضروریات کے بوجھ کا جو نقشہ کھینچا تھا، وہ آج بھی اسی شدّت سے بالخصوص غریب و متوسط طبقے کے مصائب و آلام اور ان کی ابتر حالت کا عکّاس ہے۔

نظم ملاحظہ کیجیے۔

‘ آمدنی اور خرچ’
کرایہ مکاں کا ادا کرنے جاؤں
کہ بزاز و خیّاط کا بِل چکاؤں
دوا لاؤں یا ڈاکٹر کو بلاؤں
کہ میں ٹیکس والوں سے پیچھا چھڑاؤں
خدارا بتاؤ کہاں بھاگ جاؤں

میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں

بہت بڑھ گیا ہے مکاں کا کرایہ
ادھر نل کے آبِ رواں کا کرایہ
بقایا ہے ‘برقِ تپاں’ کا کرایہ
زمیں پر ہے اب آسماں کا کرایہ
ہے بچوں کی فیس اور چندہ ضروری
کتب کاپیوں کا پلندہ ضروری
شکم پروری کا ہے دھندہ ضروری
یہ آدم کی ایجادِ بندہ ضروری
بلا کے مصارف ہیں کیا تاب لاؤں

میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں

عزیزوں کی امداد مہماں نوازی
غریبوں کو خیرات احساں طرازی
خوراک اور پوشاک میں دنیا سازی
ادھر فلم کا شوق اور ادھر عشق بازی
ضروری یہاں سگریٹ اور پان بھی ہے
عدالت میں جانے کا امکان بھی ہے
ہے بھنگی بھی دھوبی بھی دربان بھی ہے
اور اک ساڑی والے کی دکان بھی ہے
کہاں جاؤں کس کس سے پیچھا چھڑاؤں

میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں

ہیں میلے بھی اسلامی تہوار بھی ہیں
ہم ایسے مواقع پہ خوددار بھی ہیں
بہت خرچ کرنے کو تیار بھی ہیں
بلا سے جو بے برگ و بے بار بھی ہیں
کسے داستانِ مصارف سناؤں

میں اس ڈیڑھ آنے میں کیا کیا بناؤں

Comments

یہ بھی پڑھیں