The news is by your side.

Advertisement

’’جدید آدمی نامہ‘‘ کیا ہے؟ جانیے

پاکستان میں طنز و مزاح کے حوالے سے مجید لاہوری کا نام ان تخلیق کاروں میں شامل ہے جنھوں نے مزاحیہ شاعری اور فکاہیہ کالموں کے ذریعے جہاں معاشرے میں خامیوں اور مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کی، وہیں ملک کی سیاست میں مفاد پرستی، سیاست دانوں اور امرا کی عیاشیوں اور طبقاتی نظام کو بھی بے نقاب کیا۔

’’جدید آدمی نامہ‘‘ ان کی وہ پیروڈی ہے جو انھوں نے اپنے وقت کے عظیم شاعر نظیر اکبر آبادی کی مشہور نظم ’’آدمی نامہ‘‘ کو سامنے رکھ کر لکھی ہے۔ اس نظم میں مجید لاہوری نے معاشرتی عدم مساوات پر بھرپور طنز کیا ہے۔ نظم ملاحظہ کیجیے۔

’’جدید آدمی نامہ‘‘
مُونچھیں بڑھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
ڈاڑھی منڈا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
مُرغے جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
دَلیا پکا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

ٹکڑے چبا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
اور لنچ اُڑا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
وہ بھی ہے آدمی جسے کوٹھی ہوئی الاٹ
وہ بھی ہے آدمی ملا جِس کو نہ گھر نہ گھاٹ
وہ بھی ہے آدمی کہ جو بیٹھا ہے بن کے لاٹ
وہ بھی ہے آدمی جو اُٹھائے ہے سَر پہ کھاٹ

موٹر میں جا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
رِکشا چلا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

رِشوت کے نوٹ جس نے لیے، وہ بھی آدمی
دو روز جس نے فاقے کیے، وہ بھی آدمی
جو آدمی کا خون پیے، وہ بھی آدمی
جو پی کے غم کا زہر جِیے، وہ بھی آدمی
آنسو بہا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
اور مسکرا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

یہ جھونپڑے میں قید، وہ بنگلے میں شاد ہے
یہ نامرادِ زیست ہے، وہ بامراد ہے
ہر ’’کالا چور‘‘ قابلِ صد اعتماد ہے
یہ ’’زندہ باد‘‘ اِدھر، وہ اُدھر ’’مُردہ باد‘‘ ہے
نعرے لگا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
چندے جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
لٹّھے کے تھان جِس نے چھپائے، سو آدمی
پھِرتا ہے چیتھڑے سے لگائے، سو آدمی
بیٹھا ہوا ہے غلّہ دبائے، سو آدمی
راشن نہ کارڈ پر بھی جو پائے، سو آدمی
صَدمے اُٹھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی
دھومیں مچا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی

Comments

یہ بھی پڑھیں