The news is by your side.

Advertisement

صدر کی پیروڈی

پیروڈی ادب کی معروف اصطلاح ہے جو مغرب سے آئی اور اردو زبان نے اسے سمیٹا۔

ہمارے یہاں‌ ادب میں‌ زیادہ تر شاعری کو پیروڈی کا بوجھ اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم یہ نثر اور نظم دونوں سے متعلق ہے جس میں‌ ظرافت اور مزاح غالب ہوتا ہے۔

اردو کی شعری روایات میں کسی شاعر کے مصرع پر مصرع باندھنے کی روایت بڑی پرانی اور مضبوط ہے۔ طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کرنے والے اکثر مشہور مصرعوں پر “ہاتھ صاف” کرتے ہیں اور اگر کبھی سامعین یا قارئین کو قہقہے لگانے پر مجبور نہ کرسکیں‌ تو یہ شاعری انھیں‌ مسکرانے پر ضرور مجبور کردیتی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب مزاحیہ مشاعرے بھی منعقد ہوا کرتے تھے اور ان میں‌ اپنا طنز و مزاح‌ پر مبنی کلام پیش کرنے کے ساتھ شعرا پیروڈی بھی پیش کرتے تھے۔ دہلی کے ایک ایسے ہی مشاعرے کے آغاز پر صدرِ محفل اور اپنے وقت کے مشہور شاعر کے درمیان دل چسپ مکالمہ ہوا جس کا پنڈال میں‌ موجود شعرا اور سامعین نے خوب لُطف لیا اور وہاں دیر تک ان کے قہقہے گونجتے رہے۔ آپ بھی پڑھیے۔

دہلی میں شعرا ایک پیروڈی مشاعرے کے لیے اکٹھے ہوئے۔ جب گلزار زتشی کا نام صدارت کے لیے پیش کیا گیا تو انھوں‌ نے تواضع اور انکساری کا مظاہرہ کیا اور بولے:

”جناب! میں صدارت کا اہل کہاں ہوں؟“

اس پر مشہور شاعر کنور مہندر سنگھ نے برجستہ کہا:

”مطمئن رہیں، آپ صدر کی پیروڈی ہی ہیں۔“

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں