The news is by your side.

Advertisement

حقّا تُو مولٰی تُو…

کہتے ہیں بعض پرندوں کی بولیاں اور جو مختلف آوازیں وہ اکثر نکالتے ہیں، وہ بے مقصد، مہمل اور لایعنی نہیں بلکہ ان میں سے اکثر خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ثنا اور ایسے کلمات ادا کرتے ہیں جو غور سے سننے پر ہماری سمجھ میں بھی آسکتے ہیں۔

ایسی کئی کہانیاں اور حکایات مشہور ہیں جنھیں ہم بچپن سے سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ یہ لیلیٰ خواجہ بانو کی ایک ایسی ہی کہانی ہے جس کے کردار فاختہ اور کوّا ہیں۔

یہ دل چسپ اور سبق آموز والدین اپنے بچّوں کو سنا سکتے ہیں۔

بچاری فاختہ جہاں دیکھو دیوار پر حقّا تو حقّا تو کہا کرتی ہے۔ اصل میں یہ اللہ میاں سے فریاد کرتی ہے۔ کیوں کہ کوّے نے اس پر بڑاظلم کیا ہے۔

سنا نہیں؟ لوگ کہا کرتے ہیں محنت کریں بی فاختہ، کوّا میوہ کھائے۔ اس کی کہانی اس طرح ہے کہ ایک دفعہ کوّے اور فاختہ نے مل کر باغ لگایا تھا اور دونوں محنت اور نفع میں ساجھے تھے۔

پہلے دن جب باغ میں پودے لگانے کا وقت آیا تو فاختہ کوّے کے پاس گئی اور اس سے کہا چل کوّے چل کر باغ میں درختوں کے پودے لگائیں۔ کوّے نے جواب دیا۔

تُو چل میں آتا ہوں۔ ٹھنڈی ٹھنڈی چھائیاں بیٹھا ہوں
چلم تمباکو کو پیتا ہوں، پئیاں پئیاں آتا ہوں

فاختہ نے کوّے کی بہت راہ دیکھی۔ جب وہ نہ آیا تو اس نے خود اکیلے ہی محنت کر کے پودے لگا دیے۔ اس کے بعد باغ میں پانی دینے کا وقت آیا تو فاختہ کوّے کے پاس پھر گئی کہ چلو چل کر پانی دے آئیں۔ کوّے نے پھر وہی جواب دیا کہ:

تو چل میں آتا ہوں، ٹھنڈی ٹھنڈی چھائیاں بیٹھا ہوں
چلم تمباکو پیتا ہوں پئیاں پئیاں آتا ہوں

فاختہ نے پھر بہت راہ دیکھی مگر کوّا نہ آیا تو بچاری نے خود ہی پانی بھی دے لیا۔ اس کے بعد باغ کی رکھوالی کا وقت آیا۔ تب بھی کوّے نے یہی جواب دیا۔ جب میوہ پک گیا تو فاختہ پھر گئی کہ چلو چل کر میوہ توڑ لائیں۔ کوّے نے پھر وہی جواب دیا۔

فاختہ نے میوہ توڑنے کی محنت اٹھائی اور میوہ باغ میں ایک جگہ جمع کردیا۔ دوسرے دن کوّے کے پاس گئی کہ چلو چل کر میوہ لائیں تو کیا دیکھتی ہے کہ کوّا گھر سے غائب ہے۔ وہ فوراً باغ میں گئی تو دیکھا سارا میوہ کوئی لے گیا۔ یعنی کوّا اس کے آنے سے پہلے آیا اور سب میوہ اٹھا کر کسی اور گھر میں لے گیا۔

فاختہ بے چاری بہت روئی پیٹی۔ مگر کیا کر سکتی تھی۔ خدا کے سوا کوّے سے بدلہ کون لے سکتا تھا۔ اس واسطے وہ اس دن سے جب بولتی ہے یہی بولتی ہے، حقّا تُو، حقّا تُو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الہٰی تُو حق ہے، میرا حق کوّے سے دلوا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں