تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

بیش قیمت کیا؟ (سبق آموز کہانی)

دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی شے یا انسان کے لیے بعض حالات میں ازحد ضروری چیز کیا ہوسکتی ہے؟ یقیناً ہر ایک کا جواب مختلف ہوگا۔ کوئی ہیرے جواہرات، بہت سی جائیداد اور ایک بڑے اور جمے جمائے کاروبار کو اپنے اور اپنی اولاد کے لیے ضروری سمجھتا ہوگا، لیکن یہ کہانی قدرت کی عطا کردہ ایک نعمت کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس میں ہمارے لیے سبق پوشیدہ ہے۔

کہتے ہیں کسی ملک کی ملکہ نے ایک روز اپنے زیرِ ملکیت سب سے بڑے بحری جہاز کے کپتان کو بلا کر کہا۔ ”‌ فوراً بادبان چڑھاؤ، لنگر اٹھاؤ اور جہاز لے کر روانہ ہو جاؤ۔ تم کوشش کر کے دنیا کے ان حصّوں میں بھی جاؤ جہاں اب تک جانے کا اتفاق نہیں ہوا ہے اور وہاں جو چیز تم کو سب سے زیادہ عمدہ، عجیب اور قیمتی نظر آئے، جہاز میں بھر کر لے آؤ۔ قیمت کی ہرگز پروا نہ کرنا۔ میں ایک بار اپنے ملک والوں کو ایسی چیز دکھانا چاہتی ہوں جسے حقیقی معنوں میں سب سے زیادہ قیمتی اور ایک آسمانی نعمت کہا جا سکے۔“

ملکہ حکم دے چکی تھی۔ کپتان کے لیے سوچ بچار کا وقت بچا ہی کہاں تھا۔ کپتان فوراً ساحل پر پہنچا۔ اپنے معاون ملاحوں کو جمع کیا اور انھیں‌ یہ بات بتائی اور ساتھ ہی فوراً روانگی کا اعلان کرتے ہوئے عملے کو جہاز کے بادبان کھول کر اس کا لنگر اٹھانے کی ہدایت کردی۔ جہاز چل پڑا اور کچھ دیر بعد سمندر کے بیچ میں پہنچ گیا۔

تب، کپتان نے اپنے تمام نائبیں اور عملہ میں شامل پرانے اور بڑی عمر کے ساتھیوں کو بلا کر مشورہ کیا کہ انھیں کس سمت جانا چاہیے اور اگر وہ کسی ملک پہنچتے ہیں تو وہاں‌ سے کیا خریدنا چاہیے۔ جتنے منہ اتنی ہی باتیں۔ کسی نے کہا کہ عمدہ ریشم سے بہتر کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔ کسی نے کہا کہ ایسے زیورات خریدے جائیں جن کی بناوٹ اور ساخت بالکل نئی ہو۔ کسی نے کہا کہ کیوں نہ اعلیٰ قسم کے نیلم، زمرد، لعل و یاقوت یا بڑے بڑے موتی خریدے جائیں اور پھر اپنی نگرانی میں ان کے زیورا ت تیار کرائے جائیں۔ لیکن ان سب چہ مگوئیوں کے دوران میں ایک کمزور سا ملاح، جس کے بارے میں کہا جا سکتا تھا کہ وہ ہمیشہ فاقے کرتا رہا ہے، کسی قدر ہچکچاتا ہوا بولا۔’’ معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگوں پر کبھی برا وقت نہیں آیا، اس لیے تم کسی چیز کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ بتاؤ جب تم بری طرح بھوکے یا پیاسے ہو تو کون سا ہیرا یا موتی، زیور یا کپڑا کھا پی کر زندہ رہ سکتے ہو۔ اطمینان کی زندگی کے لیے خوراک کا ایک لقمہ، پانی کا ایک گھونٹ اور عمدہ ہوا میں ایک سانس ….سب سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس لیے کھانے کی چیزوں کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور کھانے کی چیزوں میں گیہوں ہمارے لیے بنیادی غذا ہے۔ دنیا میں اس سے زیادہ قیمتی چیز کوئی نہیں۔ میں نے زندگی میں بہت سے فاقے کرنے کے بعد یہ رائے قائم کی ہے۔ اگر تم بھی ان پہلوؤں پر غور کر لو تو میرے ہم خیال ہوجاؤ گے۔“

سب لوگ حیران رہ گئے۔ ملاح کی بات ان کے دل میں اتر گئی۔ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ ”‌گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ پورا جہاز اس سے بھر لیا جائے کہ جب قحط بھی پڑے تو اس کا مقابلہ ہو سکے۔“

لہٰذا جہاز کا رخ سرزمینِ مصر کی طرف پھیر دیا گیا جہاں کا گیہوں اس زمانے میں بہت مشہور تھا۔ کہتے تھے کہ وہاں‌ کا گیہوں سب سے زیادہ اچھا اور صحت بخش ہوتا ہے۔ یہ جہاز پانی پر مسافت طے کر کے مصر کی بندرگاہ پر جا لگا۔ وہاں قانونی تقاضے پورے کرنے اور محصول ادا کرنے کے بعد کپتان اور اس کے ساتھی شہر میں‌ داخل ہوسکے۔ شہر میں کپتان نے محکمۂ تجارت سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھ کر گیہوں کے سب سے بڑے تاجر تک پہنچ گیا۔ ان کا کاروبار بہت پھیلا ہوا تھا اور اس وقت مصر میں گیہوں کی بڑی مقدار ذخیرہ تھی۔ کپتان نے سودا کیا اور بہت سا گیہوں خرید کر جہاز کے اوپر لاد لیا۔

اب ملکہ کے دیس کی سنیے۔ جہاز روانہ ہو جانے کے بعد خدا کی کرنی ایسی ہوئی کہ اس پورے خطے میں سمندری طوفان کی صورت میں بڑی آفت آ پہنچی جس کی وجہ سے تمام آبادی اور زرعی زمینیں زیرِ‌ آب آگئیں۔ کھیت برباد اور لہلہاتی فصلیں مٹ گئیں۔ بڑی تعداد میں لوگ در بدر ہوگئے اور حالت یہ تھی وہاں لوگوں کو فاقے کرنے پڑ گئے۔ خود ملکہ کے گودام بھی غلّے اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء سے خالی ہو گئے۔ ایسے میں وہاں کے لوگوں سمیت اس ملکہ کے بھی ہوش ٹھکانے آ گئے تھے۔ دور تک کوئی آسرا اور امداد کا امکان نہ تھا۔ جس ملک میں خزانہ زر و جواہر سے بھرا ہوا تھا، وہاں عام لوگ تو ایک طرف خود ملکہ اور شاہی خاندان، وزیر، امیر سبھی غذائی قلّت اور اجناس کی عدم دست یابی کی وجہ سے سخت پریشان تھے۔ ملکہ کی صحت دن بدن گرتی جا رہی تھی۔ پورے ملک میں سخت مایوسی پھیلی ہوئی تھی۔

جیسے جیسے دن گزر رہے تھے، بھوک سے اموات کا سلسلہ بھی دراز ہوتا نظر آرہا تھا۔ کئی آبادیوں کا نام و نشان نہ رہا تھا اور جو جہاں تھا، وہاں سے اس کا نکلنا مشکل تھا۔ کیوں کہ سواری اور باربرداری کے جانور پانی میں بہہ گئے تھے اور بچّوں، عورتوں اور بوڑھوں کو چھوڑ کر جوان مردوں کا غذا اور محفوظ ٹھکانے کی تلاش میں‌ نکلنا آسان نہ تھا۔ ملکہ سخت پریشان تھی اور کچھ سوجھتا نہ تھا کہ کیسے خود کو اور اپنی رعایا کو اس مصیبت سے نکالے۔

ایک روز بہت دور سمندر کے سینے پر جہاز کے مستول نظر آئے۔ سمندری محافظوں کو معلوم ہوا کہ یہ تو وہی جہاز ہے جو ملکہ کے حکم پر نکلا ہوا تھا۔ ملکہ کو خبر دی گئی۔ بندرگاہ سے متصل شہر کے بچّے، بوڑھے، عورت، مرد سب اور خود ملکہ اور اس کے وزراء بھی اضطرابی کیفیت میں مبتلا ہوگئے اور جہاز کے لنگر انداز ہونے تک طرح طرح کی باتیں ان کے دماغ میں‌ آرہی تھیں کہ نجانے جہاز پر کون سی قیمتی چیز آئے گی۔ زندگی میں پہلی بار سب لوگ دنیا کی سب سے زیادہ قیمتی چیز دیکھنے کے لیے بے تاب تھے۔ اس جہاز نے ان کو کچھ وقت کے لیے اپنی مصیبت سے بے نیاز کردیا تھا۔ تجسس بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہاں تک کہ جہاز لنگر انداز ہوا اور کپتان کو معلوم ہوا کہ ساحل پر ملکہ خود موجود ہے اور اس کا ملک آفت زدہ ہے۔

کپتان جہاز سے اتر کر تیزی سے ملکہ کی جانب بڑھا اور ملکہ کو دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ وہ بہت کم زور اور افسردہ تھی۔ بیماری کے باوجود ملکہ ساحل تک آئی تھی۔ اس نے کہا۔ ”‌ملکہ میں ایک بہت ہی قیمتی چیز لایا ہوں جو حقیقتاً زندگی کا سہارا ہے۔‘‘

”‌ وہ کیا؟“ ملکہ نے پیشانی پر بِل ڈالتے ہوئے پوچھا۔

”‌ آپ اس سے واقف ہوں گی اسے کہتے ہیں گیہوں۔‘‘ کپتان نے جواب دیا۔

”‌گیہوں؟“ ملکہ نے حیرانی اور کچھ مسرت کے ساتھ دہرایا۔

ارد گرد کھڑے لوگوں نے جب یہ خبر سنی تو وہ خوشی سے چلّا اٹھے، اور ”‌گیہوں گیہوں“ کے نعرے لگانے لگے۔ ملکہ نے خوشی سے کہا۔”‌ گیہوں…. واہ تم نے کمال کر دیا۔“

اس کڑے وقت میں وافر مقدار میں گیہوں کی صورت میں کوئی دوسری چیز قیمتی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ فوراً گیہوں جہاز سے اتروا کر گودام میں رکھوائی گئی اور ملک بھر میں‌ تقسیم کا عمل شروع ہوا۔ یوں اس سن رسیدہ ضعیف ملاح کی دور اندیشی نے نہ صرف ملکہ کو خوش کردیا بلکہ اس ملک کے لوگوں کی سب سے بڑی ضرورت بھی پوری ہوئی اور انھوں نے نعمت کی قدر جان لی۔

(قدیم لوک کہانی)

Comments

- Advertisement -