The news is by your side.

Advertisement

"خواجہ صاحب کیا نہیں تھے؟”

خواجہ صاحب کیا نہیں تھے؟ ادیب، صحافی، مقرر، فلم ساز، سوشل ورکر اور نہ جانے کیا کیا۔ بس شاعر نہیں تھے۔ قانون کی ڈگری بھی ان کی جیب میں پڑی تھی۔ لیکن وہ وکیل بھی نہیں تھے۔

شاعری کی ہوتی تو زندگی کی آدھی سے زیادہ راتیں مشاعروں کی نذر ہو جاتیں۔ اور وکالت کی ہوتی تو دن کے سولہ اٹھارہ گھنٹے موکلوں کی صحبتِ ناجنس میں گزر جاتے۔ (محنتانہ بھی وہ وصول کر پاتے یا نہیں ٹھیک سے نہیں کہا جا سکتا)۔ اپنے خلاف فیصلے الگ سننے پڑتے۔ نجی زندگی میں ممکن ہے خواجہ صاحب کے کوئی اصول نہ ہوں اور اگر ہوں گے تو بھی ان میں لچک (شاخِ گُل والی لچک نہیں) کی گنجائش ہو گی۔

لیکن جہاں تک ان کے بیرونِ خانہ زندگی کا تعلق ہے انہوں نے اپنی ایک ڈگر بنا لی تھی، وہ اسی راستے پر چلتے رہے۔ کبھی مڑ کر نہیں دیکھا کہ کوئی ساتھ چل رہا ہے یا نہیں۔ شاید انہوں نے سوچا ہی نہیں کہ زندگی اور سفر میں "ساتھ” بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اتنا سخت تجرد شاید ہی کسی نے برتا ہوگا۔ قولاً بھی اور فعلاً بھی۔

اپنے اصول کے پکے تھے۔ فلمیں بھی بنائیں۔ تو اس بات کا خیال رکھا کہ کوئی فلم باکس آفس پر ہٹ نہ ہو جائے۔

عوام کے آدمی تھے، لیکن اپنی فلموں میں کبھی عوام کے "بلند ذوق” کو پیشِ نظر نہیں رکھا۔ میرا ان سے پہلا رابطہ فلم ہی کی بدولت ہوا۔ وہ اس طرح کہ خواجہ صاحب 1963ء کے ارد گرد اپنی فلم۔ غالباً "شہر اور سپنا” بنا رہے تھے۔ اور اس میں ایک شاٹ ایمپلائمنٹ ایکسچینج کا بھی تھا۔ میں محکمۂ لیبر میں معمور تھا (یوں سمجھیے کہ محکمۂ لیبر مجھ سے معمور تھا) اور اس زمانے میں یہ ایمپلائمنٹ ایکسچینج اسی محکمے کے تحت (انتظامی طور پر) تھا۔ خواجہ صاحب نے کرشن جی کی زبانی مجھ سے کہلوایا کہ میں اس شاٹ کے لیے سرکاری اجازت حاصل کروں۔ شاید خود بھی آفس آگئے تھے۔ بعد میں اپنے اسسٹنٹ (اطہر فاروقی) کے ذریعے کاغذات بھی بھجوائے۔ یہ اجازت انہیں مل گئی اور جہاں تک مجھے یاد ہے ان سے کوئی رقم وصول نہیں کی گئی۔ ( یہ شاٹ تو ایمپلائمنٹ ایکسچینج کا ایک اشتہار ہو گیا۔)

مصروف تو سبھی ہوتے ہیں کیوں کہ بمبئی شہر ہے ہی مصروف لوگوں کا شہر، لیکن خواجہ صاحب بے حد مصروف آدمی تھے۔ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنے لیے مصروفیتیں پیدا کرتے تھے۔ بامبے کرانیکل سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ اور آخر دم تک اس کمبل سے اپنا رشتہ نباہا۔ لکھتے بھی تو "آخری صفحہ” تھے انگریزی میں الگ اردو میں الگ۔

خواجہ صاحب کا ذہن اتنا زرخیز تھا کہ انہیں لکھنے کے لیے کسی موضوع کی تلاش نہیں کرنی پڑتی تھی۔ صرف قلم اٹھانا پڑتا تھا۔ وہ شاید ہی تقریبوں اور دعوتوں میں جاتے ہوں گے، ٹھیک ہی کرتے تھے ورنہ وہاں جاکر بھی وہ کاغذ قلم لے کر لکھنے بیٹھ جاتے۔ یوں تو سارا ملک ان کا دوست ہوگا، لیکن بمبئی میں بھی انہوں نے اپنے آپ کو دو چار گھروں تک محدود رکھا۔ یہ بات مجھے اس لیے یاد رہی کہ بیدی صاحب کی تو شکایت ہی رہی کہ وہ کبھی ان کے گھر جاتے۔

لیکن ایسا نہیں ہے کہ خواجہ صاحب کسی تقریب میں جاتے ہی نہیں تھے۔ جاتے ضرور تھے، لیکن انتظارِ ساغر کھینچنے کا کام وہ نہیں کر سکتے تھے۔ (یوں بھی ساغر سے ان کا تعلق تھا بھی کہاں) اور شادی بیاہ کی تقاریب میں تقریب تو کم ہوتی ہے انتظار ہی زیادہ ہوتا ہے۔

کئی سال پہلے (20 سال تو ہو ہی گئے ہوں گے) وہ گورنمنٹ کالونی باندرہ میں اپنے کسی اسسٹنٹ کے یہاں ایک تقریب میں شریک ہوئے۔ جو وقت بتایا گیا تھا اس سے بھی کوئی پندرہ منٹ پہلے پہنچے (اس کی کیا ضرورت تھی؟) وہاں ان کی حیرانی، پریشانی، اضطراب، بے چینی قابلِ دید تھی۔ اس محفل میں ان کا شناسا صرف میں تھا۔ اور تو اور جنہوں نے انہیں بلایا تھا وہ خود عدم موجود تھے۔ خواجہ صاحب نے بڑی رحم طلب نظروں سے مجھے دیکھا اور ایک لفافہ میرے حوالے کرتے ہوئے تاکید کی کہ یہ میں ان کے میزبان کے حوالے کر دوں، عجلت میں تھے، لیکن اس کے باوجود دو تین مرتبہ پوچھا کہ آپ دے دیں گے نا۔

حالانکہ وہ لفافہ میں نے ملفوف الیہ کو پہنچا دیا تھا۔ لیکن شاید خواجہ صاحب تک رسید نہیں پہنچی۔ اس کا انہیں اتنا صدمہ ہوا کہ وہ پھر کسی ایسی تقریب میں شریک ہی نہیں ہوئے۔

خواجہ صاحب کے متعلق بمبئی میں یہ بھی مشہور تھا کہ روس میں ان کی اتنی کتابیں چھپی اور فروخت ہوئی ہیں کہ وہ ہندوستان میں تو نہیں لیکن روس میں بے حد متمول آدمی ہیں۔ (روس سے یہاں سب کچھ آ سکتا ہے لیکن کتابوں کی رائلٹی کی رقم نہیں آسکتی) یہ بھی کہا جاتا تھا کہ روس میں اگر عزّت و آبرو کے ساتھ گھومنا پھرنا ہے تو خواجہ صاحب کی چِھٹی لے کر جاؤ۔ اور دیکھو کہ تمہاری کتنی قدر و منزلت ہوتی ہے۔ یہ خبریں یقیناً خواجہ صاحب تک بھی پہنچتی ہی ہوں گی۔ اس بارے میں ان کا کیا رد عمل تھا کسی کو پتہ نہیں چلا کیوں کہ خواجہ صاحب ردِعمل کے نہیں عمل کے آدمی تھے۔

خواجہ صاحب کو اس بات کا احساس تھا کہ ان کی ‘ہمہ جہتی’ نے ان کا کوئی مخصوص امیج نہیں بننے دیا۔ فلم سازوں کی محفل میں انہیں ادیب کی حیثیت سے جانا جاتا تھا۔ صحافیوں کے یہاں وہ ایک اچھے ہدایت کار مشہور تھے اور ادیبوں نے انہیں ایک اعلٰی درجے کا جرنلسٹ مانا۔ اس کا وہ لطف بھی اٹھاتے تھے۔ لطف تو انہوں نے کھانے میں بھی بہت اٹھایا۔ دور دور سے آنے والے لوگ انہیں بہت دولت مند سمجھتے تھے، ان کے گھر پر جاتے، اپنی جیب کے کٹ جانے کی داستان نہایت درد انگیز انداز میں سناتے اور بمبئی سے کلکتہ جانے کا کرایہ طلب کرتے اور خواجہ صاحب خود کہیں سے قرض حاصل کر کے اس شخص کو کلکتہ بھیجتے۔

(یہ پارے "آئی جو ان کی یاد” کے عنوان سے یوسف ناظم کے تحریر کردہ خاکے سے لیے گئے ہیں جو انھوں نے اردو کے معروف افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، فلمی ہدایت کار اور صحافی خواجہ احمد عباس پر لکھا تھا)

Comments

یہ بھی پڑھیں