The news is by your side.

Advertisement

دردائی، جو موت کے وقت بھی ٹانگیں‌ سیدھی نہ کرسکے

ماہرِ لسانیات، محقق اور نقّاد ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے اپنی خود نوشت ‘رفت و بود‘ میں‌ جہاں کئی نابغہ روزگار شخصیات کا تذکرہ کیا ہے، وہیں اپنے چند احباب اور رفقا کے بارے میں بھی لکھا ہے۔ یہاں ہم اس کتاب کا ایک درد انگیز ورق اپنے قارئین کے سامنے رکھ رہے ہیں۔

علی گڑھ کے آفتاب ہوسٹل میں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے ہم عصروں میں اختر حسین رائے پوری، سبطِ حسن، حیات اللہ انصاری، فضل الرّحمٰن انصاری شامل تھے۔ اسی زمانے میں ان پر اپنی تعلیمی قابلیت کے سبب، علی گڑھ کے اکابرین کی خصوصی عنایت رہی۔ ان اکابرین میں سے نواب سر راس مسعود اور پروفیسر محمد حبیب کا ذکر خاص رفت و بود میں شامل ہے۔

کراچی آنے کے بعد وہ اُن محافل، نشستوں اور خاطر داریوں کو یاد کرتے، تصاویر دیکھ کر خوش ہوتے رہتے۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی دہلی میں مقیم تھے کہ انجمنِ ترقیِ اردو کا دفتر دکن سے منتقل ہو کر دہلی آ گیا۔ اس زمانے کی یادیں‌ تازہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنے ایک ہم جماعت اور دوست معین الدین دردائی کا یاس انگیز واقعہ بھی بیان کیا ہے جو کچھ اس طرح ہے:

دردائی صاحب انجمن کے دریا گنج والے دفتر کے ایک کمرے میں کام کیا کرتے تھے اور اسی عمارت میں رہتے تھے۔ کام کے اوقات اتنے تھے کہ دردائی صاحب کسی اور کام کے کیا بلکہ بات کرنے کے قابل بھی نہ رہتے تھے۔

ایک شام ایسی سخت طلبی ہوئی کہ دردائی صاحب رو پڑے۔ کام کرتے کرتے ان کے گھٹنوں میں تکلیف شروع ہو گئی، یہاں تک کہ وہ بالکل معذور ہو گئے۔ انجمن نے انھیں چند ماہ کی چھٹی دے کر رخصت کر دیا اور انھوں نے زندگی کے باقی چالیس برس اس طرح گزارے کہ نہ کھڑے ہو سکتے تھے، نہ چل سکتے تھے، نہ لیٹتے سوتے وقت ٹانگیں سیدھی کر سکتے تھے۔

بعد ازاں ڈاکٹر ابواللیث صدیقی نے اپنے دوست کو کراچی بلوا لیا تھا۔ معین الدین دردائی کا انتقال ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے روز ہوا۔ مرتے وقت بھی ان کی ٹانگیں سیدھی نہ ہو سکی تھیں۔ قبر اور مردہ گاڑی کے لیے خاص انتظام کروانا پڑا۔

ڈاکٹر ابواللیث صدیقی جب اپنے دوست کی تدفین سے لوٹ رہے تھے تو انھیں وہ وقت یاد آ رہا تھا جب ان کے دوست کا خاندان بہار میں زمین داروں کا گھرانہ تھا اور ایک مرتبہ جب وہ اپنے اس دوست کے گھر گئے تھے تو انھیں‌ اسٹیشن سے معین الدین دردائی پالکی میں اپنے گھر لے کر گئے تھے اور واپسی میں وہ ہاتھی پر سوار ہو کر آئے تھے۔

سچ ہے وقت سدا ایک سا نہیں ‌رہتا اور اچّھے بھلے صحّت مند انسان پر ایسی افتاد ٹوٹ پڑتی ہے کہ دھن دولت، رشتے ناتے، دوست یار سب بے بسی سے اسے دیکھتے رہ جاتے ہیں اور کفِ افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں‌ کر پاتے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں