The news is by your side.

Advertisement

"اب ان سے صرف دعا کا رشتہ باقی ہے!”

عشقی صاحب کا ذہن علمی ہے۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہاں کا علم سمیٹ لیتے ہیں۔ اردو، فارسی، انگریزی اور ہندی تو گویا ان کے گھر کی زبانیں ہیں۔

پشاور میں رہے تو پشتو اہلِ زبان کی طرح لکھنے اور بولنے لگے جیسے وہیں کے ہیں۔ اور ہیں وہیں کے۔ خالص یوسف زئی پٹھان۔ جب پشتو جانتے ہیں تو بھلا ہند کو کو کیوں چھوڑا ہوگا۔

پنجابی زبان و ادب سے آگاہ اس لیے کہ لاہور میں بھی قیام رہا ہے۔ ملتان پوسٹنگ ہوئی تو مہر عبدالحق نے عمر خیام کی رباعیات کی سرائیکی زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کتاب کا دیباچہ عشقی صاحب نے لکھا۔

عشقی صاحب نے بے شمار تنقیدی مضامین بھی لکھے ہیں اور تحقیقی مقالے بھی۔ جو اپنے اندازِ تحریر کے سبب علیحدہ سے پہچانے جاسکتے ہیں کہ ان کا مصنف ڈاکٹر الیاس عشقی کے علاوہ اور کوئی دوسرا ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح ان کے خط لکھنے کا انداز بھی سب سے الگ ہے۔

یہ ایک تعزیتی خط ہے جو انہوں نے میرے والد محترم حضرت صبا اکبر آبادی کے سانحۂ ارتحال پر لکھا۔

عشقی صاحب کا خط سب سے الگ سب سے منفرد جیسے کوئی گلے لگا کر تسلی دے رہا ہو۔

برادرم سلطان جمیل نسیم!

السلام علیکم!
ایسا خط بھی تم کو لکھنا پڑے گا اس کا خیال تک کبھی نہ آیا تھا۔ دو دن سے سوچ رہا تھا کیا لکھوں، لفظ نہیں ملتے۔ وہ لفظ جن میں اثر ہو اور جن سے تم کو اور سب گھر والوں کو سکون ملے صبر آ جائے۔ خود مجھے اپنی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تمہارا حال کیا ہو گا۔ صبا صاحب میرے بزرگ تھے، تمہارے والد تھے۔ یہ خبر سنی تو اس وقت کئی لوگ موجود تھے کسی طرح ضبط کر لیا۔ تنہائی میں رویا اس محبت اور مروت کو جو اب میسر نہ ہو گی۔ جس دن کے تصور سے بھی خوف آتا تھا وہ گزر گیا۔ صبا صاحب کے چلے جانے سے والد کا غم بھی تازہ ہو گیا کہ محبت اور وضع داری میں یہ سب لوگ فردِ واحد کی طرح تھے۔

صبا صاحب کی موت نے ہم کو غریب کر دیا ہے۔ ایک شخص کی موت، ایک بڑے شاعر کی موت نے۔ ایک غزل گو، مرثیہ اور سلام نگار، نعت گو، تضمین نگار، رباعی گو، مترجم، نثر نگار، خاکہ نگار، مدیر اور ایسے انسان کو ہم سے چھین لیا جس کا ظاہر و باطن ایک تھا۔ رندِ پاکباز، مومنِ صادق، محفل آراء اب ان جیسا کون ہو گا۔ ان کی آواز کانوں میں گونج رہی ہے اور چہرہ آنکھوں کے سامنے ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں کہاں ہوتے ہیں جن سے دور رہ کر بھی قرب کا احساس رہتا تھا کیسی محرومی ہے۔ ہائے۔

بات رسمی ہے مگر رسمی بات کی طرح نہیں کہہ رہا کہ صبر کرو اور سب کو صبر کی تلقین کرو۔ مناسب الفاظ میں تاجدار کو میری طرف سے پرسا دو کہ غم تو زندگی بھر کا ہے، یاد آتے رہیں گے مگر اب ان سے صرف دعا کا رشتہ باقی ہے۔ اس سے غافل نہ رہنا کہ اس سے دل کو سکون بھی ملتا ہے۔

تمہارا بھائی
الیاس عشقی 4 نومبر 1991ء

(مصنف، شاعر ڈرامہ نگار اور پی ٹی وی کے پروڈیوسر مشہور سلطان جمیل نسیم نے اپنی کتاب چشمِ بینا میں ڈاکٹرالیاس عشقی سے متعلق چند واقعات اور کچھ یادیں رقم کی تھیں جن سے یہ اقتباسات پیش کیے جارہے ہیں، سلطان جمیل نسیم اردو کے معروف شاعر صبا اکبر آبادی کے فرزند تھے۔)

Comments

یہ بھی پڑھیں