The news is by your side.

Advertisement

آپ دونوں کا وزن میں نہیں کھینچ سکتا!

نمک دان کے روحِ رواں عبدالمجید لاہوری چوہان اور حضرت چراغ حسن حسرت بھاری بھرکم تھے۔

وہ سائیکل رکشا کا دور تھا۔ ایک مرتبہ دونوں کو کسی ضروری کام سے صدر جانا پڑا۔ ریڈیو پاکستان کے سامنے تاج محل سنیما ہوا کرتا تھا، دونوں نے وہاں سے رکشا کیا اور کسی طرح پھنس پھنسا کر بیٹھ گئے۔

ابھی ریگل سنیما سے دور تھے کہ عبدالمجید لاہوری کو پان یاد آگئے۔ انہوں نے ایک جگہ رکشا رکوایا اور اتر کر سامنے فٹ پاتھ پر موجود پان کے کیبن کی طرف بڑھے۔ اتنے میں حسرت کو یاد آیا کہ اپنے لیے سگریٹ بھی لے لینا چاہیے۔

انھوں نے رکشے والے سے کہا کہ اتر کر میرے ساتھی کو سگریٹ کے لیے کہہ دو، لیکن اس نے بہانہ کر دیا کہ تھکا ہوا ہوں، آپ خود ہی جائیں۔ مجبوراً حسرت کو رکشے سے اترنا پڑا۔ ادھر وہ نیچے اترے اور اُدھر رکشے والا چل پڑا۔ حسرت نے یہ دیکھا تو آواز لگائی۔

ارے کہاں بھائی، ٹھہرو ہمیں تو صدر جانا ہے۔

رکشے والے نے ہاتھ جوڑتے ہوئے زور سے کہا، بابا معاف کرو، آپ دونوں کا وزن میں نہیں کھینچ سکتا، کوئی اور رکشا دیکھ لو۔

اچھا یہ کرایا تو لے لو۔ رکشے والے نے اس پیش کش کے جواب میں کہا، کرایا بھی آپ رکھیں، آپ اتر گئے یہی بڑی بات ہے۔

اتنے میں مجید لاہوری واپس آگئے اور رکشے والے کی بابت استفسار کیا تو حسرت مرحوم نے جواب دیا، اوّل تو رکشے والے اٹھاتے نہیں، آج اس نے بٹھا لیا تھا، اور اب ہاتھ جوڑ کر بھاگ نکلا ہے، کرایا بھی چھوڑ گیا۔ یہ سب ہم دونوں کے وزن کی مہربانی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں