The news is by your side.

Advertisement

1947: دلّی کے ایک جلسے کا اکلوتا اور بے زبان سامع

’’ یہ 48 کا ذکر ہے۔ عسکری صاحب اور میں شام پڑے مال کی طرف نکل جاتے تو ادبدا کر ایک نوجوان سے مڈھ بھیڑ ہوتی۔ چھریرا بدن، لمبا قد، کھلتا ہوا رنگ۔ اپنی بھڑکیلی شرٹ اور ٹھاٹ دار پتلون کے ساتھ بہت سمارٹ نظر آتا تھا۔

اپنے ٹامی کو لے کر نکلتا تھا۔ مستقل اسے روکتا ٹوکتا چلتا۔ ہمارے قریب آکر عسکری صاحب کو سلام کرتا اور پھر اپنے ٹامی سے باتیں کرتا آگے نکل جاتا۔ میں نے عسکری صاحب سے پوچھا کہ یہ کون نوجوان ہے۔

کہا، ”اس کا نام انور جلال ہے۔“

اگلے چند برسوں میں اس سے اس طرح تعارف ہوا کہ شاعری کرتا نظر آیا۔ پھر افسانے میں خامہ فرسائی کرتا دکھائی دیا۔ پھر اس کا ایک ناول شایع ہوا۔ اور اچھا بھلا ناول تھا۔ پھر قلم کے ساتھ اس کے ہاتھ میں موقلم نظر آیا۔ اس کے ساتھ اس کے نام کے ساتھ شمزا کا لاحقہ لگ گیا۔ اب وہ انور جلال شمزا تھا اور ادیبوں کے ساتھ کم مصوروں کی صحبت میں زیادہ دکھائی دینے لگا۔ ٹی ہاوس سے کافی ہائوس کی طرف۔ کافی ہائوس سے ٹی ہائوس کی طرف۔ تھوڑا ادب زیادہ مصوری۔ اور مصوری کے بہانے باہر نکل گیا۔ مصوری میں اس کے کام کی خوشبو پاکستان تک آئی۔

زمانے بعد ایک سہ پہر میں نے ٹی ہائوس میں قدم رکھا تو دیکھا کہ انور جلال بیٹھا ہے۔ مجھے دیکھ کر چلایا ”یار میں اتنی دیر سے یہاں بیٹھا انتظار کر رہا ہوں۔ کوئی آشنا صورت نظر نہیں آ رہی۔ ناصر تو دنیا سے چلا گیا۔ باقی یار کہاں گئے۔“

”بس جیسے تم چلے گئے ویسے دوسرے بھی جس کے جہاں سینگ سمائے نکل گیا۔“

یہ اس کا شاید پاکستان کا آخری پھیرا تھا۔ پھر تو وہ آیا نہیں۔ اس کی خبر ہی آئی۔

دوسرے کتے کو میں نے دیکھا نہیں، اس کا ذکر عبادت صاحب سے سنا۔ یہ غلام عباس کا کتا تھا جس کا نام حلقہ ارباب ذوق کی تاریخ میں سنہری حرفوں میں لکھا جانا چاہیے۔ عبادت صاحب بتاتے تھے کہ 47 میں 3 جون کے اعلان کے بعد کتنے یار جو دلی کے حلقہ میں شریک ہوا کرتے تھے پاکستان چلے گئے۔ غلام عباس ابھی موجود تھے۔

شہر میں حالات بہت خراب تھے۔ کرفیو لگا ہوا تھا۔ آ گیا اتوار۔ غلام عباس کا گھر میرے گھر سے قریب ہی تھا۔ ان کا پیغام آیا۔ میں ان کے یہاں پہنچ گیا۔ کہنے لگے کہ آج اتوار ہے۔ حلقہ کا جلسہ نہیں ہو گا۔ میں نے کہا کہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کرفیو میں کون آئے گا۔ کہنے لگے کہ ہم اپنے گھر پہ جلسہ کیے لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ مگر لوگ کہاں ہیں۔

بولے کہ دیکھیے میرے پاس نیا افسانہ پڑھنے کے لیے موجود ہے۔ آپ صدر بن جائیں گے۔ میں نے کہا ”اور سامعین کہاں سے آئیں گے۔“

اس پر عباس صاحب نے تھوڑا سوچا۔ پھر اندر گئے۔ اور اپنے کتے کو پکڑ کر لائے۔ بولے ”لیجیے سامعین کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہمارا ٹامی ہمارا افسانہ سنے گا۔“ پھر اسے پچکار کر بٹھایا۔ کہا کہ ”ٹامی تمہیں میرا افسانہ سننا ہے۔“

سو میں صدر بنا۔ غلام عباس نے افسانہ پڑھا۔ ٹامی نے یہ افسانہ سنا۔ اس طرح 47 کے پُرآشوب دنوں میں دلی میں حلقہ کا جلسہ ہوا۔‘‘

(انتظار حسین کی کتاب چراغوں کا دھواں سے انتخاب)

Comments

یہ بھی پڑھیں