The news is by your side.

Advertisement

بیٹی کا اپنی والدہ کے نام ایک خط (طنز و مزاح)

مری پیاری امی، مری جان امی!

بعد ادائے ادب کے عرض یہ ہے کہ یہاں ہر طرح سے خیریت ہے اور خیر و عافیت آپ کی خداوند کریم سے نیک مطلوب ہے۔ صورتِ احوال یہ ہے کہ یہاں سب خیریت سے ہیں۔ والا نامہ آپ کا صادر ہوا۔ دل کو از حد خوشی ہوئی۔ چچا جان کے خسر صاحب کے انتقالِ پُر ملال کی خبر سن کر دل کو از حد قلق ہوا۔ جب سے یہ خبر سنی ہے چچی جان دھاروں رو رہی ہیں۔ خلیفہ جی یہ سناؤنی لے کر پہنچے تو کسی سے اتنا نہ ہوا کہ ان کی دعوت ہی کر دیتا۔ میں نے سوچا کہ اگر ذرا سی الکسی ہو گئی تو خاندان بھر میں تھڑی تھڑی ہو جائے گی۔ فوراً خادمہ کو لے کر باورچی خانے پہنچی۔ اس نے جھپاک جھپاک آٹا گوندھا، لیکن سالن قدرے تیز آنچ پر پک گئے، چناں چہ پھل پھلواری سے خلیفہ جی کی تواضع کی۔ بہت خوش ہوا۔

تائی صاحبہ نے خوان بھجوا کر حاتم کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی۔ دوسرے روز ناشتے پر بھی بلوایا۔ اوچھے کے ہوئے تیتر باہر باندھوں کت بھیتر۔ تائی صاحبہ بھی ہمیشہ اسی طرح کرتی رہتی ہیں، رنگ میں بھنگ ڈال دیتی ہیں۔

الفت بیا آئی تھیں۔ تائی صاحبہ کا فرمانا ہے کہ یہ بچپن سے بہری ہیں۔ بہری وہری کچھ نہیں۔ وہ فقط سنتی نہیں ہیں۔ کیا مجال جو آگے سے کوئی ایک لفظ بول جائے۔

گو دل نہیں چاہ رہا تھا، لیکن آپ کے ارشاد کے مطابق ہم سب ممانی جان سے ملنے گئے۔ وہاں پہنچے تو سارا کنبہ کہیں گیا ہوا تھا، چناں چہ چڑیا گھر دیکھنے چلے گئے۔ ایک نیا جانور آیا ہے، زیبرا کہلاتا ہے۔ بالکل گدھے کا اسپورٹس ماڈل معلوم ہوتا ہے۔ اچھا ہی ہوا کہ دیکھ لیا ورنہ ممانی جان کی طعن آمیز گفتگو سننی پڑتی۔

پڑھائی زوروں سے ہو رہی ہے۔ پچھلے ہفتے ہمارے کالج میں مس سید آئی تھیں جنھیں ولایت سے کئی ڈگریاں ملی ہیں۔ بڑی قابل عورت ہیں۔ انہوں نے ‘‘مشرقی عورت اور پردہ’’ پر لیکچر دیا۔ ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ مس سید نے شنائل کا ہلکا گلابی جوڑا پہن رکھا تھا۔ قمیص پر کلیوں کے سادہ نقش اچھے لگ رہے تھے۔ گلے میں گہرا سرخ پھول نہایت خوب صورتی سے ٹانکا گیا تھا۔ شیفون کے آبی دوپٹے کا کام مجھے بڑا پسند آیا۔ بیضوی بوٹے جوڑوں میں کاڑھے ہوئے تھے۔ ہر دوسری قطار کلیوں کی تھی۔

ہر چوتھی قطار میں دو پھول کے بعد ایک کلی کم ہو جاتی تھی۔ دوپٹے کا پلو سادہ تھا، لیکن بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ مس سید نے بھاری سینڈل کی جگہ لفٹی پہن رکھی تھی۔ کانوں میں ایک ایک نگ کے ہلکے پھلکے آویزے تھے۔ تراشیدہ بال بڑی استادی سے پرم کیے ہوئے تھے۔ جب آئیں تو کوٹی کی خوش بُو سے سب کچھ معطر ہو گیا۔ لیکن مجھے ان کی شکل پسند نہیں آئی۔ ایک آنکھ دوسری سے کچھ چھوٹی ہے۔ مسکراتی ہیں تو دانت برے معلوم ہوتے ہیں۔ ویسے بھی عمر رسیدہ ہیں۔ ہوں گی ہم لڑکیوں سے کم از کم پانچ سال بڑی۔ ان کا لیکچر نہایت مقبول ہوا۔

آپ یہ سن کر پھولی نہ سمائیں گی کہ آپ کی پیاری بیٹی امورِ خانہ داری پر کتاب لکھ رہی ہے۔ مجھے بڑا غصہ آتا تھا جب لوگوں کو یہ کہتے سنتی تھی کہ پڑھی لکھی لڑکیاں گھر کا کام کاج نہیں کر سکتیں چنانچہ میں نے آزمودہ ترکیبیں لکھی ہیں۔ جو ملک کے مشہور زنانہ رسالوں میں چھپیں گی۔ نمونے کے طور پر چند ترکیبیں نقل کرتی ہوں۔
(معروف مزاح نگار شفیق الرحمٰن کی کتاب مسکراہٹیں سے لیا گیا)

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں