اسلام آباد: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کے ترجمان نے کہا ہے کہ جعلی، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے، جعلی ادویات کے خاتمے سے محفوظ اور مؤثر ادویات کی فراہمی کو یقینی بنا رہے ہیں ۔
ڈریپ کے مطابق صوبائی صحت حکام کے ساتھ مل کر ڈریپ نے کامیاب کارروائیاں کیں، اس حوالے سے سی ای او ڈریپ نے کہا کہ بھاری مقدار میں غیر قانونی ادویات کو قبضے میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، لاہور میں غیر قانونی طور پر یوروگرافن انجکشن فروخت کرنے والے افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ڈریپ کے مطابق بغیر لائسنس زائد قیمتوں پر فروخت جیسے الزامات کے تحت تحقیقات جاری ہیں، لاہور میں ڈریپ کی ٹیم نے نجی اسپتال کے قریب ایک شخص کو گرفتار کیا جو غیر رجسٹرڈ لیپیوڈول الٹرا لیکوئڈ کی فروخت میں ملوث تھا، بعد ازاں میسرز الوالی تقسیم کاروں پر چھاپا مارا گیا جہاں سے غیر قانونی اشیا برآمد کی گئیں، اس ڈسٹری بیوٹرز کمپنی کو سیل کر دیا گیا ہے اور اس کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
خبردار، پنجاب کی مارکیٹ میں جانوروں اور امراض چشم کی جعلی ادویات پکڑی گئی ہیں
کہوٹہ روڈ، انڈسٹریل ٹرائینگل میں ایک فیکٹری پر اچانک چھاپا مارا گیا، جہاں پلاسٹک یورین کلیکشن کنٹینرز بغیر لازمی اسٹیبلشمنٹ لائسنس کے تیار کیے جا رہے تھے، جو میڈیکل ڈیوائسز رولز 2017 اور ڈریپ ایکٹ 2012 کی سنگین خلاف ورزی ہے، تمام غیر قانونی اشیا ضبط کر لی گئیں اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔
اسلام آباد ایمبرو فارماسیوٹیکلز، جہاں غیر قانونی طور پر طبی آلات تیار اور ذخیرہ کیے جا رہے تھے، جس کا ڈرگ مینوفیکچرنگ لائسنس ڈریپ پہلے ہی منسوخ کر چکا ہے، کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی شروع کی گئی ہے اور فیکٹری کو سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈریپ نے مارکیٹ میں جعلی پروپیلین گلائکول کی موجودگی پر فوری الرٹ جاری کیا، ڈرگ ٹیسٹنگ لیب کی رپورٹ کے مطابق بیچ YF01210911 میں خطرناک حد تک زہریلا ایتھیلین گلائکول (EG) پایا گیا۔
ڈریپ نے تمام متعلقہ اداروں کو خام مال کی سخت جانچ پڑتال کی ہدایت کر دی ہے، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک دوا یا طبی آلات کی فروخت کی اطلاع ڈریپ حکام کو دیں۔