The news is by your side.

Advertisement

امریکی کمیشن نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کردی

واشنگٹن: امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت پر سخت سفارتی پابندیوں کے اطلاق کی سفارش کردی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے جان بوجھ کر مذہبی آزادی کے خلاف منظم پرتشدد کارروائی کی اجازت دی۔

امریکی کمیشن کے مطابق بھارت نے بین الاقوامی مذہبی آزادی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کیں، امریکی کمیشن نے سفارش کی کہ بھارتی حکومت، اداروں، حکام پر سفارتی، انتظامی پابندیاں عائد کی جائیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذہبی آزادی سلب کرنے میں ملوث افراد کے اثاثے منجمد کیے جائیں، مذہبی آزاد سلب کرنے میں ملوث افراد پر امریکا میں داخلہ پر پابندی عائد کی جائے۔

امریکی کمیشن کا کہنا ہے کہ بھارتی شخصیات کے خلاف کارروائی کے لیے مالیاتی اور ویزا حکام کو پابند بنایا جائے۔

مزید پڑھیں: بھارت اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ پر پابندیوں کے اطلاق کا امکان ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی، راشٹریہ سوک سنگھ، پولیس سمیت سرکاری حکام پر پابندیوں کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ نریندر مودی پر 2005 میں بحیثیت وزیراعلیٰ گجرات بھی سفری، سفارتی اور ویزا پابندیاں لگ چکی ہیں، نریندر مودی پر گجرات میں مسلم کش فسادات پھیلانے میں کردار پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی نے سالانہ رپورٹ جاری کی تھی جس میں بھارت کو اقلیتوں کے لیے خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے سی پی سی ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں