انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر134 روپے کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا
The news is by your side.

Advertisement

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر134 روپے کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا

کراچی : انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، ایک دن میں ڈالر کی قدر میں 13روپے کا اضافہ کے بعد ڈالر 137 روپے کا ہوگیا، جو بعد میں 134 پر آگیا۔

تفصیلات کے مطابق کرنسی مارکیٹ بھونچال آگیا، ڈالر کی قیمت کو پر لگ گئے، کاروبار ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جس کے باعث انٹر بینک میں ڈالر کو 134 روپے کی ریکارڈ سطح پر دیکھا گیا۔

فاریکس ڈیلرز کا کہنا ہے انٹر بینک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال دیکھنے میں آرہی ہے اور ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا جارہا ہے ، انٹربینک میں ایک دن میں ڈالر 9روپے75پیسے مہنگا ہوگیا۔

ڈیلرز نے کہا کہ ڈالر134روپے پر ٹریڈ ہورہا ہے، کاروبار کے دوران ڈالر 137روپے کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔

گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر ڈیڑھ روپے مہنگا ہوکر 129 روپے کی سطح پر پہنچ گیا تھا ۔

معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں کمی کی وجہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانا ہے جبکہ زرائع کا کہنا ہے کہ مالیاتی فنڈ نے روپے کی قدر میں نمایاں کمی شرط عائد کی ہے۔

ماہرمعاشیات شاہدحسن صدیقی کا کہنا ہے کہ میراخیال ہےآئی ایم ایف کیلئے روپے کی قدرکو گرایا جارہاہے، روپےکی قدرمزیدگرےکی،ڈالرمزیدبڑھےگا، آئی ایم ایف کےساتھ مذاکرات میں بھی روپے کی قدر پر گفتگوہوگی، ڈالرکےمقابلےمیں روپےکی قدرپردباؤ رہے گا۔

مزید پڑھیں : معاشی بحران کے حل کے لئے حکومت کا آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ

یاد رہے گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کی منظوری دی تھی، وزیرخزانہ اسد عمرکا کہنا تھا معاشی بحران کے حل کے لئے حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے، فیصلہ ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت جو حالات چھوڑکر گئی سب کے سامنے ہیں، مشکل فیصلہ ہے، ایک قوم بن کر سنگیں معاشی بدحالی سے نکلیں گے۔

یاد رہے جولائی میں امریکی ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا اور 130 روپے کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کرگیا تھا۔

واضح رہے کہ ایسا پہلی بار ایسا نہیں ہوا، جولائی 2017 میں بھی ایسا ہوا تھا، روپے کی قدر میں ایک دن میں تین فیصد سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی اور ڈالر 109 روپے تک جا پہنچا تھا۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کمی کی تحقیقات کا حکم دیا تھا، جس کے بعد تحقیقاتی رپورٹ میں کسی کو روپے کی قدر میں کمی کا ذمہ دار نہیں ٹھرایا گیا تھا جبکہ اسٹیٹ بینک نے تسلیم کیاکہ روپےکی قدرمیں کمی دراصل ایڈجسٹمنٹ تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں