The news is by your side.

Advertisement

پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد کی شرائط مزید سخت

واشنگٹن: پاکستان کے لیے امریکی امداد کی شرائط مزید سخت کردی گئیں۔ امریکی ایوان نمائندگان نے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ منظور کرلیا۔

پاکستان کے لیے امریکی فوجی امداد کا حصول مزید دشوار ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکہ نے پاکستان سے ایک بار پھر ڈو مورکا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے باوجود کڑی شرائط رکھ دیں۔

امریکی ایوان نے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کے سسلسلے میں پاکستان کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ ایکٹ میں 602 بلین ڈالرز کے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ کے تحت پاکستان کے لیے 450 ملین ڈالر کی امداد کو حقانی گروپ کے خلاف کارروائی اور شکیل آفریدی کی رہائی سے مشروط کردیا گیا۔

ایکٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان حقانی گروپ کے خلاف کارروائی کرے اور شمالی وزیرستان میں گروپ کو ٹھکانے نہ بنانے دے۔ اس سلسلے میں پینٹاگون کو پاکستان کی حقانی گروپ کے خلاف آپریشن کی تصدیق کرنے کا کہا گیا ہے۔ ایکٹ میں مقامی انتظامیہ سے بھی تصدیق طلب کی گئی کہ پاکستان نے حقانی نیٹ ورک کے سینئر رہنماؤں اور درمیانے درجے کے کارکنوں کو گرفتار کرنے اور ان پر مقدمہ چلانے کے حوالے سے پیش رفت دکھائی ہے۔

ایک اور ترمیم میں سیکریٹری دفاع سے تصدیق طلب کی گئی کہ پاکستان اپنے فوجی یا دیگر فنڈز یا امریکا کی جانب سے فراہم کیا گیا ساز و سامان اقلیتی گروپوں پر ظلم و ستم کے لیے استعمال نہیں کر رہا۔

پاکستان کو امداد دینے کی ایک اور شرط ڈاکٹر شکیل آفریدی کی فوری رہائی بھی ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ شکیل آفریدی بین الاقوامی ہیرو ہے۔ ایوان نمائندگان نے اتھارائزیشن ایکٹ کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایبٹ آباد میں القاعدہ لیڈر اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کی مہم میں علاقے میں جعلی پولیو مہم چلائی تھی۔ شکیل آفریدی غداری کے الزام میں اس وقت پشاور کی ایک جیل میں قید ہے اور امریکہ کئی بار اس کی حوالگی کا مطالبہ کرچکا ہے۔

اس سے قبل وزیر داخلہ چوہدری نثار واضح کرچکے ہیں کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کا معاملہ پاکستان کا ذاتی معاملہ ہے اور کسی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے۔ شکیل آفریدی کا فیصلہ پاکستان خود کرے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں