The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کو باضابطہ طور پر ’نسل کشی‘ قرار دے دیا

واشنگٹن: امریکا نے آخر کار روہنگیا مسلمانوں پر میانمار فوج کے مظالم کو نسل کشی قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ اینٹنی بلنکن نے پیر کو واشنگٹن ڈی سی میں ہولوکاسٹ میموریل میوزیم میں اعلان کیا کہ امریکا نے میانمار کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کو ’نسل کشی‘ قرار دے دیا ہے۔

امریکی وزیرخارجہ نے کہا روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج کا تشدد انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے، شواہد سے واضح ہے کہ برمی فوج نے بڑے پیمانے پر مظالم کیے ہیں، اور برمی فوج کا ان مظالم کے ذریعے روہنگیا کو تباہ کرنے کا ارادہ تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے روہنگیا مسلمانوں پر میانمار کی فوج کے مظالم کو باضابطہ طور پر نسل کشی قرار دیا ہے، توقع ہے کہ اس فیصلے سے میانمار کے فوجی حکمرانوں پر بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

بلنکن نے کہا ’امریکا نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 7 بار نسل کشی کی گئی ہے، موجودہ نسل کشی آٹھویں ہے، امریکا نے تعین کر لیا ہے کہ برمی فوج کے ارکان نے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔‘ واضح رہے کہ اس بیان میں امریکی حکومت نے 1989 سے پہلے کا نام یعنی برما استعمال کیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیانات بلنکن کے عہدہ سنبھالنے اور تشدد کا نیا جائزہ لینے کے وعدے کے 14 ماہ بعد سامنے آئے ہیں۔ اپنی تقریر میں بلنکن نے میانمار کی فوج کی روہنگیا کو ختم کرنے کی مہم اور ہولوکاسٹ، روانڈا توتسی کے قتل عام اور دیگر نسل کشیوں کے درمیان متعدد مماثلتوں کی طرف بھی اشارہ کیا۔

بلنکن نے کہا روہنگیا کے خلاف حملہ وسیع اور منظم تھا، یہ نکتہ انسانیت کے خلاف جرائم کے تعین تک پہنچنے کے لیے اہم ہے، ثبوت ان اجتماعی مظالم کے پیچھے ایک واضح ارادے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں، یعنی روہنگیا کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کا ارادہ۔

قتل عام کو نسل کشی قرار دینے سے قبل امریکی تفتیش کاروں نے بنگلا دیش میں رہنے والے ایک ہزار سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں سے بات کی تھی، جو 2016 یا 2017 میں تشدد کی وجہ سے بے گھر ہوئے تھے۔ بلنکن نے کہا کہ انٹرویو دینے والوں میں سے تین چوتھائی نے کہا کہ انھوں نے فوجیوں کو کسی روہنگیا کو قتل کرتے خود دیکھا ہے۔

بلنکن کے مطابق انھوں نے بتایا کہ آدھے سے زیادہ پناہ گزینوں نے جنسی تشدد کی کارروائیوں کا بھ یمشاہدہ کیا، پانچ میں سے ایک نے بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا واقعہ دیکھا، یعنی ایک ہی واقعے میں 100 سے زیادہ افراد کا ہلاک یا زخمی ہونا۔ یاد رہے کہ 2016 میں ملک کی مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا کے خلاف مہم شروع ہونے کے بعد سے امریکا پہلے ہی میانمار پر متعدد پابندیاں عائد کر چکا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں