The news is by your side.

Advertisement

امریکا نے کابل ڈرون حملے کے متاثرین کو معاوضے کی پیش کش کر دی

واشنگٹن: امریکا نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ڈرون حملے کے متاثرین کو معاوضے کی پیش کش کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 29 اگست کو امریکی ڈرون حملے میں کابل میں ایک خاندان کے 10 افراد ہلاک ہو گئے تھے، امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ حملے میں داعش دہشت گرد کو نشانہ بنایا گیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ حملے میں عام افغان شہری نشانہ بنے تھے۔

امریکی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے لیے تیار ہیں، اگر متاثرین کے اہل خانہ امریکا منتقل ہونا چاہیں تو انھیں منتقل کیا جائے گا۔

امریکی وزارت دفاع نے بیان میں کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کے ساتھ مل کر اس معاملے پر بھی کام کر رہے ہیں۔

انتیس اگست کے ڈرون حملے میں ایک گھر نشانہ بنا تھا، اور ازمرے احمدی نامی شہری کی اپنے خاندان سمیت ہلاکت ہوئی تھی، حملے کے فوراً بعد امریکی بیان میں کہا گیا تھا کہ کابل ایئر پورٹ پر حملے کا بدلہ لے لیا گیا۔

بعد ازاں، امریکا نے حملے میں معصوم افراد کی ہلاکت پر معذرت کرتے ہوئے غلطی کا اعتراف کیا تھا، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل فرینک میکنزی نے ڈرون حملے کو غلطی قرار دیتے ہوئے معافی مانگی۔

کابل: مکان پر ڈرون حملہ غلطی تھی، امریکا کا اعتراف

جنرل فرینک نے کہا کہ جس گاڑی کو ڈرون سے ہدف بنایا گیا ہمارا خیال ہے کہ اس میں داعش کے دہشت گرد موجود نہیں تھے اور نہ ہی ان سے ایئر پورٹ پر تعینات امریکی فوجیوں کو کوئی خطرہ تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والا شہری داعشی نہیں بلکہ ایک امدادی کارکن تھا جو کیلیفورنیا کی نیوٹریشن اینڈ ایجوکیشن انٹرنیشنل نامی تنظیم کے لیے کام کرتا تھا، جس نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکا منتقلی کےلیے درخواست بھی دے رکھی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں