The news is by your side.

Advertisement

کھلے دودھ کا استعمال بیماریوں کا سبب، ماہرین کی رائے

دودھ کی دکانوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث شہریوں کی صحت خطرے میں پڑنے لگی ہے۔

دودھ کی دکانوں میں صفائی کے ناقص انتظامات کے باعث بیماریاں پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مکھیوں اور گندگی کے باعث کھلے دودھ کا استعمال بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے،کیونکہ مالکان صفائی کے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کھلا دودھ اور کھلی مٹھائیاں جیسے جلیبی وغیرہ مکھیوں کے لئے جراثیم پھیلانے کا کھلا دعوت نامہ ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کھلا دودھ خریدنے سے بیماریوں کا ڈر لگارہتا ہے، کھلے دودھ میں نیوٹرنٹ  تو ہوتے نہیں جبکہ یہ ملاوٹ شدہ ہوتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہےکہ دوکانداروں کو چاہیے کہ وہ کھلے دودھ کو محفوظ رکھنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات کریں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں 90فیصد لوگ کھلا دودھ استعمال کرتے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے، چند ممالک کے علاوہ دنیا بھر میں کھلا دودھ فروخت نہیں کیا جاتا، دنیا کے بیشتر ممالک میں دودھ کی فروخت میں حفظان صحت کے اصولوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

گزشتہ عرصے میں کیے گئے اقتصادی سروے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں دودھ کی سالانہ پیداوار لگ بھگ 50 ارب لیٹر سے زائد ہے جبکہ75 فیصد عوام کو معیاری دودھ میسر نہیں ہے۔Milk shops in Sindh allowed to remain open till 8pmکھلے دودھ میں آلودہ پانی کی ملاوٹ کی جاتی ہے، اس کو گاڑھا کرنے کیلئے مختلف قسم کے کیمیکلز کی آمیزش کی جاتی ہے، اس کے علاوہ اس دودھ کی کوالٹی کو چیک کرنے کیلئے بھی صفائی کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔

حلال جانور کا دودھ اگر چند گھنٹوں میں نہ ابالا جائے تو اس میں بیکٹیریا کی تعداد اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ وہ خراب ہو جاتا ہے اس لیے اسے فوراً ابالنا پڑتا ہے جس کے بعد اگر آپ اسے نارمل درجہ حرارت پر رکھتے ہیں تو وہ چار سے چھ گھنٹے میں خراب ہوجاتا ہے اور اگر آپ اسے ٹھنڈا کر لیتے ہیں تو وہ آٹھ سے دس گھنٹے میں خراب ہو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کھلا دودھ بیماریوں کا سبب جبکہ ڈبے کا دودھ جراثیم سے پاک ہے، ماہر صحت

اسی طرح دودھ کی طلب اور رسد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس میں پانی ملایا جاتا ہے جس کے معیار کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

اس کے علاوہ کچھ گوالے اپنی بھینسوں کو کچھ ایسے ٹیکے لگاتے ہیں جس سے وہ جلد اور زیادہ دودھ دینے لگتی ہیں اور یہ انجکشن جانور اور صارف دونوں کی صحت کے لیے خطرناک ہیں۔

بازار یا کسی گوالے سے خریدے ہوئے دودھ کا معیار چیک کرنے اور اسے دیر تک محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دودھ کو فوری طور پر گرم کرلیں۔ دودھ گرم کرنے کے بعد اس پر جمنے والی ملائی سے اس کے خالص ہونے کا بہت آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے،اگر باقی رہ جانے والی ملائی میں تیل محسوس ہو تو یہ جان لیں کہ دودھ خالص ہے اگر یہ خشک محسوس ہو تو دودھ میں ملاوٹ کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں