The news is by your side.

Advertisement

عثمان مرزا کیس: بیان سے مکرنے کے بعد لڑکا لڑکی کا ایک اور فیصلہ

اسلام آباد: ای الیون میں لڑکا اور لڑکی کو برہنہ کیس میں متاثرین نے بیان تبدیل کرنے کے بعد وکیل کو بھی تبدیل ‏کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق عثمان مرزا کیس میں متاثرہ لڑکےلڑکی نے وکیل بھی تبدیل کر لیا۔ متاثرہ لڑکےلڑکی کے ‏پہلے وکیل حسن جاوید کا موقف سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں لڑکے لڑکی نے جو کچھ ‏کہا اس سے متعلق میرے علم میں کچھ نہیں تھا۔

وکیل حسن جاوید نے بتایا کہ لڑکا اور لڑکی کل تک میرے ساتھ رابطے میں تھے آج بیان ریکارڈ کرانے سے متعلق ‏میری 2 دن پہلے ملاقات بھی ہوئی ان سے کل آخری بار فون پر رابطہ ہواتھا آج صبح رابطہ کرنےکی کوشش کرتا رہا ‏لیکن دونوں نےفون نہیں اٹھایا پھر اچانک 2 بجے مجھے پتہ چلا لڑکے اور لڑکی نے وکیل تبدیل کرلیا۔

 متاثرہ لڑکی بیان سے منحرف ،.ملزمان کو پہنچاننے سے انکار

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں ای الیون میں لڑکا اور لڑکی کو برہنہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، ‏متاثرہ لڑکی سندس اور لڑکا اسد ڈسٹرکٹ اینڈسیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔

متاثرہ لڑکی سندس کی جانب سےعدالت میں اسٹامپ پیپر دیا گیا، متاثرہ لڑکی نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے ‏کہا پولیس نے یہ سارا معاملہ خود بنایا ہے، میں نے بیان حلفی کسی کے دباؤمیں آکر نہیں دیا اور میں نے کسی ‏ملزم کو شناخت کیا ،نہ ہی کسی پیپر پر دستخط کئے۔

متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ پولیس والےمختلف اوقات میں سادہ کاغذوں پردستخط اور انگوٹھے لگواتے رہے، میں ‏کسی ملزم کو نہیں جانتی اور نہ کیس کی پیروی کرنا چاہتی ہوں۔

جس پر وکیل ملک جاوید اقبال وینس نے کہا ضرورت تو نہیں ہے اب جرح کرنےکی تو وکیل ظفر وڑائچ کا کہنا تھا ‏کہ میری طرف سے نل کر دیں میں جرح نہیں کروں گا۔

جج نے ملک جاوید سے مکالمے میں کہا اب کیس کو کسی سائیڈ پر لگانا ہے جرح تو کریں تو وکیل آصف بٹ کا ‏کہنا تھا کہ میں جرح کروں گا۔

متاثرہ لڑکی نے مزید کہا کہ میں نے کسی کو بھی تاوان کی رقم ادا نہیں کی، ملزم ریحان سمیت دیگر ملزمان کو ‏مجھے تھانےمیں دکھایا گیا تھا، ریحان سمیت کسی بھی ملزم نے زیادتی کی کوشش نہیں کی، میں ریحان کو نہیں ‏جانتی اور نہ ہی وہ ویڈیو بنا رہا تھا۔

ملزم فرحان شاہین کے وکلایاسرملک اوراخلاق اعوان بھی عدالت پہنچے ، جج نے وکیل سے مکالمے میں کہا ملک ‏جاوید اقبال صاحب آپ جرح کر لیں، جس پر وکیل ملک جاوید کا کہنا تھا کہ وکیل شیر افضل آجائیں میں ‏ادھرہی ہوں جرح کر کے جاؤں گا۔

سیشن عدالت میں متاثرہ لڑکی سدرہ کے بیانات پر جرح شروع ہوئی ، متاثرہ لڑکی سدرہ نے بتایا 16 جولائی ‏کواڈیالہ جیل میں ان کوشناخت کیاتھا، میں نے کوئی دستخط نہیں کئے تھے، جس پر وکیل نے کہا آج یہ محترمہ ‏کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

جج نے ریمارکس دیئے کہ اگر تو آپ نے تاریخ لینی ہےتولے لو ، جس پر وکیل شیر افضل نے کہا نہیں ہم آج جرح ‏کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں