The news is by your side.

Advertisement

پنجابی زبان کے مقبول شاعر استاد دامن کا یومِ وفات

آج عوامی شاعر استاد دامن کی برسی ہے۔ وہ پنجابی زبان کے مقبول ترین شعرا میں سے ایک ہیں۔ استاد دامن کی شاعری ناانصافی، عدم مساوات اور جبر کے خلاف عوامی جذبات اور امنگوں کی ترجمان ہے۔ استاد دامن 3 دسمبر 1984ء کو وفات پاگئے تھے۔

استاد دامن فارسی، سنسکرت، عربی اور اردو زبانیں جانتے تھے۔ عالمی ادب پر بھی ان کی توجہ تھی۔ ان کی سادہ بود وباش اور بے نیازی مشہور ہے۔ چھوٹے سے کھولی نما کمرے میں‌ کتابوں کے درمیان زندگی گزارنے والے استاد دامن کی جرأتِ اظہار اور حق گوئی کی مثال دی جاتی ہے۔

وہ کثیرالمطالعہ اور خداداد صلاحیتوں کے حامل تخلیق کار تھے جنھیں پنجابی ادب کی پہچان اور صفِ اول کا شاعر کہا جاتا ہے۔

استاد دامن مصلحت سے پاک، ہر خوف سے آزاد تھے۔ انھوں نے فیض و جالب کی طرح جبر اور ناانصافی کے خلاف عوامی لہجے میں اپنی شاعری سے لوگوں میں‌ شعور بیدار کیا۔ استاد دامن نے عوامی اجتماعات میں پنجابی زبان میں اپنے کلام سے بے حد مقبولیت اور پزیرائی حاصل کی۔

ان کا اصل نام چراغ دین تھا۔ صلے اور ستائش سے بے نیاز ہوکر حق اور سچ کا ساتھ دینے والے استاد دامن 1910ء کو پیدا ہوئے۔ لاہور ان کا مستقر تھا جہاں اپنے والد کے ساتھ کپڑے سینے کا کام کرتے رہے۔ انھوں نے خیاطی کا کام والد سے سیکھا اور بعد میں کسی جرمن ادارے سے اس کا باقاعدہ ڈپلوما بھی حاصل کیا۔ انھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی، لیکن والد کے انتقال کے بعد ان کا کام سنبھال لیا اور تعلیمی سلسلہ آگے نہ بڑھ سکا۔

پنجابی شاعری اور فن پر گرفت رکھنے کے سبب انھیں استاد تسلیم کیا جاتا ہے اور مشاہیر سمیت ہر دور میں اہلِ علم پنجابی زبان و ادب کے لیے ان کی خدمات کے معترف ہیں۔ انھیں لاہور میں مادھولال حسین کے مزار کے احاطے میں دفنایا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں