بدھ, مئی 22, 2024
اشتہار

شانتا رام: ایک باکمال فلم ساز، بہترین پروڈیوسر کی کتھا

اشتہار

حیرت انگیز

ہندوستان میں‌ مراٹھی اور ہندی سنیما کی تاریخ میں شانتا رام کا نام ایک باکمال فلم ساز اور پروڈیوسر کے طور پر محفوظ ہے۔ وہ تھیٹر کی دنیا سے سنیما کی طرف آئے تھے۔ شانتا رام نے بڑے پردے پر اپنی فنی مہارت اور تخلیقی صلاحیتوں کی بدولت بڑا نام اور مقام پایا۔

اس فلم ساز اور پروڈیوسر نے بابو راؤ پینٹر کی مہاراشٹر فلم کمپنی میں بحیثیت اسسٹنٹ کام شروع کیا تھا۔ بعد کے برسوں میں‌ وہ ایسے فلم ساز کے طور پر پہچان بنانے میں کام یاب ہوئے جس کی فلمیں اکثر ایک خاص انداز سے اور مراٹھی تھیٹر کے زیرِ اثر بنائی گئیں۔ 1929ء میں شانتا رام نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے آبائی شہر کولھا پور میں پربھات فلم کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس بینر تلے ان کی فلم ایودھیا کا راجا 1931ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ یہ پربھات کمپنی کی پہلی ناطق فلم ہی نہیں ہندوستان کی وہ پہلی فلم بھی تھی جسے دو زبانوں یعنی ہندی اور مراٹھی میں بنایا گیا تھا۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ شانتا رام کی اس فلم سے چند روز قبل ہی مراٹھی زبان میں پہلی فلم ریلیز ہوچکی تھی، ورنہ ایودھیا کا راجا ہی مراٹھی زبان کی پہلی فلم کہلاتی۔

شانتا رام کی پربھات فلم کمپنی نے ایودھیا کا راجا کے بعد اگنی کنگن اور مایا مچھندرا جیسی قابلِ ذکر فلمیں بنائیں۔ 1933ء میں اس فلم ساز پہلی رنگین فلم بھی ریلیز ہوئی جس کا نام نام سائراندھری (Sairandhri) تھا، مگر باکس آفس پر یہ کام یاب فلم ثابت نہ ہوئی۔ پربھات فلم کمپنی کو مالکان نے کولھا پور سے پونے شفٹ کردیا جہاں اس بینر تلے 1936ء‌ میں‌ امرت منتھن اور 1939ء میں‌ امر جیوتی جیسی فلمیں ریلیز کی گئیں اور یہ بہت کام یاب رہیں۔ فلم امرت منتھن نے سلور جوبلی بھی مکمل کی۔ یہ بودھ دور کی کہانی تھی۔ اس کے بعد شانتا رام نے ایک مراٹھی ناول پر مبنی سنجیدہ فلم دنیا نہ مانے کے نام سے بنائی تھی۔ اس فلم کے بعد وہ سماجی موضوعات کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ کہتے ہیں دیو داس جیسی فلم کو انھوں نے اس کی کہانی کے سبب ناپسند کیا تھا اور اسے نوجوانوں میں مایوس کُن جذبات پروان چڑھانے کا موجب کہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ خود ترقی پسند فلمیں بناتے رہے۔

- Advertisement -

1937ء میں انھوں نے دنیا نہ مانے کے نام سے فلم بنائی اور 1941ء میں پڑوسی ریلیز کی جس میں انھوں نے مذہبی کشاکش دکھائی تھی۔ اس کے مرکزی کردار دو ایسے ہمسایہ تھے جن میں ایک ہندو اور ایک مسلمان تھا۔ یہ دونوں دوست بھی تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ تعلق نفرت اور پھر دشمنی میں بدل جاتا ہے۔ اس فلم کو لوگوں نے بہت پسند کیا۔ وی شانتا رام نے فلم میں ہندو کا کردار ایک مسلمان اداکار کو سونپا تھا جب کہ مسلمان کا کردار نبھانے کے لیے ایک ہندو اداکار کا انتخاب کیا تھا۔ یہ پربھات فلم کمپنی کے ساتھ ان کی آخری فلم تھی کیوں کہ وی شانتا رام اِسی فلم کی ایک اداکارہ جے شری کی محبّت میں گرفتار ہوگئے تھے اور ان کے کاروباری ساتھیوں کو اس پر سخت اعتراض تھا۔

وی شانتا رام نے جے شری سے تیسری شادی کی ممبئی منتقل ہوگئے جہاں راج کمل کلامندر (Rajkamal Kalamandir) نامی اسٹوڈیو شروع کیا اور شکنتلا کے نام سے فلم بنائی جو ایک ہٹ فلم تھی۔ اِس کے بعد ڈاکٹر کوٹنس کی امر کہانی (Dr. Kotnis Ki Amar Kahani) سنیما کو دی اور یہ بھی ہِٹ ثابت ہوئی۔ یہ دونوں اس زمانے میں امریکہ میں بھی مقبول ہوئیں۔ شکنتلا شانتا رام کی وہ فلم تھی جس پر لائف میگزین میں آرٹیکل بھی شایع ہوا۔ ان کی بنائی ہوئی متعدد فلمیں‌ ناکام بھی رہیں، لیکن پچاس کی دہائی میں وی شانتا رام نے ضرور فلم نگری میں اپنے کمالِ فن اور مہارت کو منوایا لیا تھا۔

اس دور کی کام یاب ترین فلم دھیج(جہیز) تھی۔ اس وقت راج کمل اسٹوڈیو کو ایک نئی ہیروئن سندھیا مل گئی تھی جس کے ساتھ 1953ء میں‌ شانتا رام نے فلم تین بتی چار راستہ بنائی تھی جو ہٹ ثابت ہوئی اور پھر اسی اداکارہ کو انھوں‌ نے اپنی رنگین فلم جھنک جھنک پائل باجے میں کام دیا۔ شانتا رام نے 1958ء میں‌ فلم دو آنکھیں بارہ ہاتھ بنائی تھی جو ان کی سب سے یادگار فلم ہے۔ یہ ایک سچّی کہانی پہ مبنی فلم تھی اور اسے سینما کی تاریخ‌ کا ماسٹر پیس قرار دیا جاتا ہے۔

اس فلم کی کہانی کا خلاصہ یہ ہے کہ آزادی سے قبل ایک ریاست میں ایک جیلر کو اپنے قید خانے چلانے کی اجازت دی جاتی ہے اور یہ جیلر کئی سنگین جرائم میں‌ ملوث اور پیشہ ور مجرموں کو قید خانے میں‌ رکھ کر ایک ذمہ دار اور مفید شہری بناتا ہے۔ جیلر کا کردار فلم ساز اور پروڈیوسر شانتا رام نے خود ادا کیا تھا۔ ان کو اس فلم پر کئی ایوارڈ دیے گئے جن میں برلن کے فلمی میلے کا گولڈن بیر اور ہالی وڈ پریس ایسوسی ایشن کا ایوارڈ بھی شامل ہے۔

وی شانتا رام کا دورِ عروج 1950 کی دہائی کے بعد ختم ہوتا چلا گیا جس کی ایک وجہ ان کا بدلتے ہوئے رجحانات کا ساتھ نہ دینا اور جدید تقاضوں‌ کو پورا نہ کرنا بھی تھا۔ انھوں نے نئے ماحول میں خود کو ڈھالنا پسند نہ کیا اور اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنے کو تیّار نہ ہوئے۔ دراصل وی شانتا رام فلم کو سماجی خدمت کا ایک میڈیم سمجھتے تھے اور بامقصد تفریح‌ کے قائل تھے۔

فلم کے بعد اب وی شانتا رام کی زندگی کے حالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ 1901ء میں وی شانتا رام نے کولہا پور کے ایک مراٹھی خاندان میں‌ آنکھ کھولی۔ ان کا انتقال 30 اکتوبر 1990ء کو ہوا۔ شانتا رام نے تین شادیاں کی تھیں۔ وہ بیس برس کے تھے جب رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ ان کی پہلی شریکِ حیات کا نام ویملا بائی تھا جس کی عمر شادی کے وقت 12 سال تھی۔ پہلی بیوی کے بطن سے چار بچّے پیدا ہوئے۔ وی شانتا رام نے 1941ء میں اداکارہ جے شری سے دوسری شادی کی اور تین بچّوں کے باپ بنے۔ 1956ء میں انھوں نے سندھیا نامی اپنے وقت کی کام یاب اداکارہ سے تیسری شادی کی تھی، لیکن ان سے اولاد نہ تھی۔

پچاس کی دہائی میں وی شانتا رام کی جو فلمیں مقبول ہوئی تھیں، آج بھی دیکھنے والوں کی توجہ حاصل کرلیتی ہیں۔ ان کی فلموں کے کئی گیت بھی کلاسیکی دور کی یادگار ہیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں