The news is by your side.

Advertisement

بھارت، احتجاجی کسانوں کا اہم اعلان، مودی نے سر پکڑ لیا

نئی دہلی: لکھیم پور کھیری واقعے پر کسانوں نے مودی حکومت کے خلاف نئی حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق لکھیم پور کھیری کے دلخراش واقعے پر احتجاجی کسانوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے کسان تنظیموں نے اپنی پریس کانفرنس میں مستقبل کی حکمت عملی سے بھی آگاہ کردیا ہے۔

پریس کانفرنس میں کسان تنظیموں نے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا اور ان کے بیٹے آشیش مشرا کی گرفتاری اور اسے کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کرڈالا، سنیوکت کسان مورچہ نے اعلان کیا کہ ملک بھر کے کسان 12 اکتوبر کو لکھیم پور کھیری پہنچیں۔

کسان رہنما یوگیندر یادو نے کہا کہ 12 تاریخ کو ہم شہید ہونے والے اپنے کسانوں اور صحافی کے لئے لکھیم پور پہنچیں گے، لکھیم پور کا واقعہ جلیانوالا باغ سے کم نہیں ہے، ملک کی تمام سماجی تنظیموں سے گزارش ہے کہ وہ ملک بھر میں موم بتی مارچ کا انعقاد کریں۔

یوگیندر یادو نے کہا کہ مطالبات کی عدم منظوری پر پندرہ اکتوبر کو وزیر اعظم مودی اور امت شاہ کا پتلا نذر آتش کرینگے، 18 اکتوبر کو ملک بھر میں ریل سروس کو روکیں گے جبکہ 26 اکتوبر کو لکھنؤ میں ایک مہاپنچایت منعقد کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت : کسان پر بیہمانہ تشدد، دل دہلا دینے والی ایک اور ویڈیو وائرل

کسان لیڈر ڈاکٹر درشن پال نے وزیر مملکت پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے دہشت کا ماحول بنانے کی کوشش کی، 25 ستمبر کو اجے مشرا نے تقریر میں کسانوں کے خلاف کافی باتیں کیں، پھر 3 اکتوبر کو اس سازش کو عملی جامہ پہنایا۔ اجے مشرا کے بیٹے نے کسانوں پر جیپ سے حملہ کیا۔

کسان لیڈر جوگندر اگراہاں نے کہا کہ ہماری تحریک پوری طرح پر امن چل رہی ہے، ہمیں خالصتانی کہا گیا، دہشت گرد کے نام سے پکارا گیا، کرنال میں کسانوں پر انسانیت سوز تشدد کیا گیا لیکن ہم جوابی تشدد نہیں کریں گے اور جدوجہد جاری رکھیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں