The news is by your side.

Advertisement

“پاکستان میں موجود وائرس چین سے مختلف ہے”

کراچی: معروف سائنسدان ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا ہے کہ کراچی یونیورسٹی میں کورونا وائرس سے متعلق تحقیق کی گئی ہے، چین میں کورونا وائرس پاکستان میں موجود وائرس سےمختلف ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں میزبان وسیم بادامی سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عطا الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں وائرس کی ساخت میں کچھ جگہ پر تبدیلی ہے، چین میں کورونا وائرس پاکستان میں موجود وائرس سےمختلف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پلازما ٹرانسفیوژن سےمتعلق ابھی مشاہدہ جاری ہے، چین میں بھی پلازماٹرانسفیوژن پرمشاہدہ کیاگیا جب کہ عالمی سطح پر پلازما ٹرانسفیوژن کومکمل طورپراستعمال نہیں کیاگیا۔

ڈاکٹرعطا الرحمان نے بتایا کہ پاکستان میں کورو ناوائرس سے اموات کاڈیٹا دنیا سےمختلف ہے، پاکستان میں کورونا وائرس سےمتعلق اب تک ڈیٹاحوصلہ افزاہے، ملک میں اس وقت تعدادبڑھ رہی ہے مگر تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا، گراف جب نیچےآناشروع ہوگاتوتعدادسےمتعلق درست معلوم ہوسکےگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سماجی فاصلے تو ہمیں ہرصورت رکھناہیں،3،4ماہ ہمیں سختی سے ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال کرناہے۔

قبل ازیں بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا تھا کہ چین نےکورونا کے صحتیاب مریضوں کاپلازما نکال کربیمار مریضوں کو لگایا، چین نےاس تجربے سےفائدہ اٹھایا اورمریضوں کی تعداد کم کی۔

ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا ہے کہ خسرہ جیسی بیماریوں کا علاج بھی اسی طریقے سےکیاجاتا تھا جب کہ ایبولا اور سوائن فلو جیسی بیماریوں کا علاج بھی پلازما کے ذریعے کیا گیا۔

انہوں نے تجویز دی کہ پاکستان میں اس وقت کورونا کے صحتیاب مریض ہیں جن کا پلازما رکھ لینا چاہیے، کورونا کے80 فیصدصحتیاب مریضوں کا پلازما علاج کیلئے بہترین ہوگا، پلازما عطیہ کرنےسےکسی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا، چین نے200 ایم ایل پلازما دو سے تین مرتبہ متاثرہ مریضوں کو لگایا جب کہ 600ایم ایل پلازما ایک بار ہی متاثرہ لوگوں کو لگایا اور وہ ٹھیک ہوئے، ہماری کوشش ہوگی ہم بھی ایک ہی مرتبہ600ایم ایل پلازما لگائیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں