تازہ ترین

فیض آباد دھرنا : انکوائری کمیشن نے فیض حمید کو کلین چٹ دے دی

پشاور : فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ...

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں...

سعودی وزیر خارجہ کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد پاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد: سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان...

حکومت کل سے پٹرول مزید کتنا مہنگا کرنے جارہی ہے؟ عوام کے لئے بڑی خبر

راولپنڈی : پیٹرول کی قیمت میں اضافے کا امکان...

نئے قرض کیلئے مذاکرات، آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی

واشنگٹن : آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹیلینا...

ووٹ خراب ہو جائے تو کیا ووٹر کو نیا بیلٹ پیپر دیا جائے گا؟

اگر کسی وجہ سے ووٹ خراب ہو جائے تو کیا ووٹر کو نیا بیلٹ پیپر دیا جائے گا؟

ووٹر کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ ووٹ ڈالنے کا درست طریقہ کیا ہے اور اپنا ووٹ ضائع ہونے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

یہ ذہن نشین رکھیں کہ آپ کا ووٹ ضائع ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے ووٹ کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے کسی بھی غلطی کی صورت میں ووٹر پریذائیڈنگ افسر سے نیا بیلٹ پیپر حاصل کر سکتا ہے۔

ووٹ ڈالنے کا درست طریقہ یہ ہے کہ بیلٹ پیپر فولڈ کرنے کے بعد اس بات کو یقینی بنائیں کہ لگائی گئی مہر کی سیاہی سوکھ چکی ہے، ایک ہی امیدوار کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، ایک سے زائد امیدواروں کے انتخابی نشان پر ہرگز مہر نہ لگائیں، اگر آپ نے دو امیدواروں کے انتخابی نشان کے درمیانی حصے پر مہر لگائی تو بھی آپ کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔

گوگل کا ڈوڈل بھی انتخابی رنگ میں رنگ گیا

بیلٹ پیپر پر صرف مہر کا استعمال کیا جائے، انگوٹھے کا نشان بیلٹ پیپر کے کسی بھی حصے پر لگائے جانے یا لگ جانے کی صورت میں بھی آپ کا ووٹ ضائع ہو جائے گا، بیلٹ پیپر کا کوئی بھی حصہ پھاڑ دینے، اس پر کسی قسم کی کوئی پرچی چسپاں کرنے کی صورت میں بھی ووٹ شمار نہیں ہوگا۔

ووٹ ڈالنے کے لیے اصل قومی شناختی کارڈ کا ہونا ضروری ہے، زائد المیعاد شناختی کارڈ پر بھی ووٹ ڈال سکتے ہیں، دیگرکوئی دستاویز قبول نہیں کی جائے گی، پریذائیڈنگ افسر آپ کا ووٹر نمبر انتخابی فہرست میں اور شناختی کارڈ نمبر بیلٹ پیپر کے کاؤنٹرپر درج کرے گا، اوراس پر سرکاری نشان کے ساتھ مہر لگا کر دستخط کرے گا۔

الیکشن 2024 پاکستان: پولنگ کی مکمل کوریج اور معلومات – لائیو

اگر آپ کے ووٹ کے پیچھے مہر یا دستخط موجود نہیں، تو اُسے گنتی کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا، اس کے بعد وہ ووٹر لسٹ میں آپ کے نام کے سامنے آپ کے انگوٹھے کے نشان لگوائے گا، پھر آپ اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے مخصوص جگہ پر جا سکتے ہیں، مخصوص جگہ پر جا کر قومی اور صوبائی اسمبلی کے اپنے پسندیدہ امیدواروں کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں۔

ہرے رنگ کا بیلٹ پیپر قومی اسمبلی جب کہ سفید رنگ کا بیلٹ پیپر صوبائی اسمبلی کے لیے استعمال ہوگا۔

Comments

- Advertisement -