The news is by your side.

Advertisement

وحید مراد کا غریب لڑکے کو تھپڑ، معافی اور سو روپے کا نوٹ!

یہ 1964 کی بات ہے جب فلم ساز اور ہدایت کار پرویز ملک کراچی میں اپنی فلم ہیرا اور پتھر کی عکس بندی کررہے تھے۔ فلم کے ہیرو وحید مراد تھے جو بڑے تنک مزاج ثابت ہوئے تھے۔

ایک روز کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں فلم کی شوٹنگ کے دوران وحید مراد کسی بات پر یونٹ کے ایک لڑکے سے الجھ گئے۔ اس لڑکے سے خدا معلوم کون سی غلطی سرزد ہوگئی کہ وحید مراد نے اس غریب کو ایک زور دار تھپڑ رسید کر دیا۔ سب نے یہ منظر دیکھا اور سب کو بڑا دکھ ہوا۔

وہ غریب اپنا گال سہلا کر اپنے کام میں لگ گیا، مگر پورے یونٹ نے وحید مراد کی اس حرکت کا برا منایا اور جب کھانے کا وقفہ ہوا تو پرویز ملک نے وحید مراد سے بڑی نرمی سے کہا کہ تمھیں اس غریب لڑکے کے ساتھ یہ سلوک نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ دیکھ کر یونٹ کے دوسرے افراد نے بھی وحید مراد سے احتجاج کیا اور یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ یونٹ کے آدمیوں نے کام کرنے سے انکار کر دیا۔

وحید مراد اس فلم کو شیڈول کے مطابق مکمل کرانا چاہتے تھے۔ اس لیے جب یہ منظر دیکھا تو فورا اس لڑکے کو بلا کر گلے لگا لیا اور معافی مانگی اور اس کی دل جُوئی کے لیے اسے سو روپے کا نوٹ بھی دیا۔ یوں معاملہ رفع دفع ہوا۔

بعد میں اس واقعے کی اطلاع ان کے گھر پہنچی تو ان کی ماں نے بھی بہت سمجھایا جس کا اثر یہ ہوا کہ جب ایک ہفتے بعد عید آئی تو وہ عید کا کافی سامان لے کر اس لڑکے کے گھر گئے تاکہ اس کی دل جوئی ہوسکے۔ وہ گھرانہ انتہائی غریب تھا چناں چہ عید کے موقع پر یہ غیبی مدد پاکر بڑا خوش ہوا۔ اس موقع پر وحید مراد نے ایک بار پھر اس لڑکے سے معافی مانگی۔

(بحوالہ: “ذکر جب چھڑ گیا” از زخمی کانپوری)

Comments

یہ بھی پڑھیں