site
stats
پاکستان

فاروق ستار سربراہ ہیں لیکن پارٹی پالیسی سے انحراف کی کسی کو اجازت نہیں، وسیم اختر

waseem
فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان خلیج ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے

کراچی : میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ فاروق ستار سربراہ ہیں اور پارٹی کو لیکر چل رہے ہیں لیکن ہمیں اپنی پارٹی اور ووٹرز کا مفاد بھی دیکھنا ہے.

ان خیالات کا اظہارانہوں نے بہادر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، وسیم اختر کا دوٹوک کہنا تھا کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے ساتھ تمام امور میں پارٹی پالیسی پرکا انحصار میرٹ پر ہے اور میرٹ پر ہی تمام معاملات چلیں گے.

سینیئر رہنما ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ٹکٹ کے تقسیم اس سے قبل رابطہ کمیٹی کی صوابدید نہین تھی لیکن 22 اگست کے بعد پوری رابطہ کمیٹی پر ذمہ داری آگئی ہے چنانچہ میرٹ پرٹکٹ کی منصفانہ تقسیم کی روایت ڈال رہے ہیں اس لیے میرٹ کی پالیسی سے پہلو تہی نہیں کرسکتے.

ایک سوال کے جواب میں میئر کراچی کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندوں کی پارٹی سے بھی سیاسی وابستگی ہے تاہم ایسا تاثر دینا کہ بلدیاتی مسائل سے غافل ہیں درست نہیں اور کوئی میری کارگردگی پر تنقید کر بھی رہا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں کراچی کےعوام جانتے ہیں کہ کون کتنا کام کرتا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ رکن رابطہ کمیٹی شاہد پاشا کی بلدیاتی نمائندوں سے متعلق شکایات کا جواز نہیں کیوں کہ انہیں بلدیاتی مسائل کا کوئی علم نہیں اور عوام بھی پریشان ہیں اور چاہتے ہیں مسائل جلد حل ہوں جس کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں.

میئرکراچی نے دعوی کیا کہ ایم کیوایم پاکستان کی جڑیں مضبوط ہیں اور تنظیمی اسٹریکچر کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ 2018 کے الیکشن میں پہلے سے زیادہ ووٹ لیں گے اور 1988 و 1990 کے الیکشن کا ریکارڈ توڑدیں گے.

خیال رہے کہ ڈپٹی کنونیر کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر سربرا ایم کیو ایم پاکستان فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کے درمیان دوریاں پیدا ہوگئی ہیں اور ایم کیو ایم واضح طور پر دو گروپس منقسم نظر آتی ہے اور دونوں گروپس کی جانب سے ایک دوسرے کو تنظیم سے خارج کرنے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top