The news is by your side.

Advertisement

حیدرآباد کے پاگل خانے میں‌ شادی کی تقریب کا انعقاد

حیدرآباد: صوبہ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد میں واقع پاگل خانے ’ گدو اسپتال ‘ میں شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز زائد کلہوڑو کے مطابق حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد نمبر تین میں واقع دماغی امراض کے سب سے بڑے اسپتال ’سرکواس جی جہانگیر‘ (گدو) میں شادی کی تقریب کاانعقاد کیا گیا۔

شادی کی تقریب کے لیے گدو اسپتال کے ملازم نے عمارت میں واقع میدان میں شامیانہ لگایا اور بھرپور اہتمام بھی کیا۔شادی میں گدو اسپتال کے ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر اسٹاف سمیت دیگر مہمانوں نے شرکت بھی کی۔

مہمانوں نے کرونا ایس او پیز کو بالائے طاق رکھ کر شادی میں شرکت کی اور وہ حکومتی احکامات کی دھجیاں اڑاتے نظر آئے۔

اس معاملے پر جب اسپتال کے انچارج سے مؤقف لیا گیا تو انہوں نے تقریب کے انعقاد پر لاعلمی کا اظہار کیا اور معاملے کی تحقیقات کی یقین دہانی بھی کروائی۔

یاد رہے کہ حکومت سندھ نے کرونا کے پیش نظر صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کی ہوئی ہے جبکہ حکومت کی جانب سے شہریوں کے لیے ایس او پیز بھی جاری کی گئی ہیں۔

حکومت سندھ نے گزشتہ دنوں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کرتے ہوئے اس کو 15 اگست تک بڑھا دیا ہے۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ عوامی مقامات سمیت پارکس بھی 15 اگست بند رہیں گے، ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی ہوگی۔

نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی کو لگائی گئی پابندیاں15اگست تک مزید برقرار رہیں گی، تمام مزارات بند ہوں گے، ہر قسم کی تقاریب پر پابندی عائد ہوگی اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بھی مزید ایک ماہ بند رہے گی۔

صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ صوبے بھر کے تعلیمی ادارے، شادی ہالز، بزنس سینٹرز، ایکسپو ہالز اور عوامی تفریحی مقامات بدستور بند رہیں گے، ہوم ڈلیوری کی سہولت رات گیارہ بجے تک ہوگی، حکومت سندھ نے واضح کردیا تھا کہ صوبے میں کھیلوں کی تمام سرگرمیاں خواہ وہ ان ڈور ہوں یا آؤٹ ڈور بند رکھی جائیں گی، اسی طرح جم اور کلبوں کو بھی کھلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق کاروبار کے اوقات کار صبح چھ سے شام سات بجے تک مختص کیے گئے تھے لیکن میڈیکل اسٹورز ، دودھ، دہی اور کریانے کی دکانیں رات گئے تک کھولنے کی اجازت ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں