The news is by your side.

Advertisement

زندگی کے آخری لمحات میں کرونا مریضوں کو کیا نظر آتا ہے؟ دل سوز ویڈیو کمزور دل افراد نہ دیکھیں

واشنگٹن: امریکی ڈاکٹر کینتھ ریمی نے کرونا کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک دل سوز ویڈیو بنائی جس میں انہوں نے بتایا کہ مریض کی زندگی کے آخری ایام کتنے تکلیف دہ ہوجاتے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن یونیورسٹی کے محقق اور سینٹ لوئس چلڈرنز ہاسپٹل کے ڈاکٹر کینتھ ریمی کا کہنا تھا کہ کرونا مریضوں کی سانسیں تیزی سے چل رہی ہوتی ہیں، وہ ایک منٹ میں 30، 40 اور 50 سانسیں لیتے ہیں، مریضوں کو خود اپنی زندگی کا اختتام نظر آرہا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مریض بستر میں لیٹے مجھے اور کمرے میں موجود دیگر لوگوں کو دیکھتے ہیں، مجھے تو ایک طبی آلات لگا مریض ہی نظر آتا ہے، متاثرہ افراد ادویات کھاتے اور پھر دوبارہ کبھی نہ اٹھتے ہوں۔

ڈاکٹر نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے سال کروناویکسین آنے سے حالات بہتر ہوجائیں گے، کرونا وائرس کی وبا کے نتیجے میں امریکا کو شدید نقصان کا سامنا ہے، موسم سرما میں کرونا کے خلاف ہرممکن حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے ایک ہزار سے زائد کرونا مریضوں کی دیکھ بھال کی، جن میں سے سو سے زائد کے جسموں میں مختلف ٹیوبیں لگائی گئیں، امید کرتا ہوں آپ کی زندگی کے آخری لمحات ایسے نہیں ہوں گے، اگر آپ نے فیس ماسک، سماجی فیصلہ، ہاتھ دھونے کی پابندی نہیں کی تو شاید آپ بھی تکلیف دہ دن جھیلیں گے۔

کینتھ ریمی نے مزید کہا کہ کرونا مریض کے نظام تنفس کو سپورٹ فراہم کرنے کے لیے آلات استعمال کیے جائیں تو تکلیف ہوتی ہے، وبائی حالات کنٹرول ہونے میں ابھی وقت لگے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں