The news is by your side.

Advertisement

ملک کے پہلے چیف جسٹس کے بارے میں‌ آپ کیا جانتے ہیں؟

کسی بھی نو آزاد ریاست میں آئین و قانون سازی کے مراحل طے کرتے ہوئے عدلیہ اور انتظامی اداروں کا قیام عمل میں لاکر عوام کو بنیادی حقوق کی فراہم کیے جاتے ہیں۔

قیامِ پاکستان کے وقت برطانوی راج کے تحت متحدہ ہندوستان میں سینئر ترین جج کے طور پر مسلمان قانون داں سر میاں عبدالرشید اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ تقسیم کے بعد سر عبدالرشید میاں ہی نے قائدِ اعظم سے ملک کے پہلے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف لیا تھا جو بعد میں پاکستان کے پہلے چیف جسٹس بھی بنے۔

ماہر قانون داں اور ملک کے اہم ترین منصب پر فائز رہنے والے سر عبدالرشید میاں کا انتقال چھے نومبر 1981 کو ہوا تھا۔ ان کے حالاتِ زندگی اور نئی مملکت کے عدالتی نظام اوراس کے ماتحت اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے ان کی خدمات پر یہ مختصر تحریر پیش ہے۔

سر عبدالرشید نے 29 جون 1889 کو باغبان پورہ کی میاں فیملی کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم سینٹرل ماڈل اسکول لاہور سے حاصل کی۔ کرسچین کالج سے بی اے کی ڈگری لینے کے بعد اسی کالج سے کیمبرج سسٹم کے تحت ماسٹرز کیا اور قانون کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور میں پریکٹس کا آغاز کر دیا۔

اسی دوران ایک عدالتی ملازمت بھی مل گئی جس نے ان کے علم اور تجربے میں اضافہ کیا۔ اس کے بعد 1923 میں سر عبدالرشید کو قائم مقام جج کے طور پر لاہور ہائی کورٹ میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ 1927 سے 1931 کے دوران وہ حکومتِ پنجاب کے تحت ایڈوکیٹ کی ذمہ داری نبھاتے رہے۔ 1933 میں سر عبدالرشید کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر کیا گیا۔

1946 وہ چیف جسٹس، لاہور بنا دیے گئے جس کے بعد ہندوستان کی تقسیم عمل میں آئی اور سر میاں عبدالرشید نے قائدِ اعظم محمد علی جناح سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔ حکومتِ ہند کے ایکٹ کے تحت 27 جون 1949 کو وہ ملک کے پہلے منصفِ اعظم کے عہدے پر فائز کیے گئے اور یہ عہدہ 29 جون 1954 تک سر میاں عبدالرشید کے پاس رہا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں