The news is by your side.

Advertisement

واٹس ایپ کا بڑا فیصلہ، جعلی میسج کرنے والے ہوجائیں خبردار

کیلی فورنیا: واٹس ایپ نے صارفین کو غیرتصدیق شدہ جعلی پیغامات بھیجنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق موبائل فون کی معروف مسیجنگ ایپلیکشن واٹس ایپ کے دنیا بھر میں کروڑوں صارفین موجود ہیں جن کو سہولیات اور آسانیاں فراہم کرنے کے لیے کمپنی مختلف وقتوں میں نت نئے فیچرز متعارف کرواتی ہے۔

واٹس ایپ صارفین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اُن کے پاس اکثر اوقات اسپیم (فضول) میسجز آتے ہیں جس کے ساتھ یہ نوٹ تحریر ہوتا ہے کہ یہ پیغام 10 لوگوں کو بھیج کر فلاں فیچر یا واٹس ایپ کی سہولت بالکل مفت حاصل کریں۔

کمپنی کی جانب سے بارہا صارفین کو متنبہ کیا جاتا رہا ہے کہ جعلی پیغامات میں کوئی صداقت نہیں ہوتی کیونکہ ایپلیکشن میں کوئی بھی فیچر شامل کرنے پر اپ ڈیٹ خود کا پیغام صارفین کو موصول ہوجاتا ہے اور یہ تبدیلی خود ہی ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ دنیا کی غیر محفوظ ایپ قرار

واٹس ایپ نے جعلی پیغامات بھیجنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئندہ آنے والے وقتوں میں کوئی بھی صارف جعلی پیغامات نہیں بھیج سکے گا ساتھ ہی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ عام سا میسج بھی ایک بار سے زیادہ فاروڈ کرنے پر اسکرین پر تنبیہ پیغام نظر آئے گا۔

ترجمان واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ ’کمپنی بہت باریکی سے غلط بیانی کرنے والے صارفین کے نمبرز کو دیکھ رہی ہے جنہیں جلد بلاک کردیں گے تاکہ بقیہ صارفین کو پریشانی سے بچایا جاسکے‘۔

یہ بھی پڑھیں: غلطی کا اعتراف، واٹس ایپ نے فیچر واپس لے لیا

واٹس ایپ کے ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد جھوٹی خبروں کی تشہیر کرنے سے روکنا ہے تاکہ کسی بھی افواہ کو پھیلنے سے روکا جاسکے‘۔

موبائل کی معروف میسجنگ ایپ کا یہ فیچر فی الحال ابتدائی مراحل میں ہے، کمپنی کی جانب سے یہ سہولت کب متعارف کروائی جائے گی اس بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ صارفین کو جعلی پیغامات اور ایک ہی میسج مختلف نمبروں سے بار بار موصول ہونے کی شکایات کا سامنا تھا جس پر کمپنی نے اب حتمی طور پر ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں