حضرت نوحؑ السلام کی کشتی کس ملک میں ہے؟ ویڈیو دیکھیں nooh a.s
The news is by your side.

Advertisement

حضرت نوحؑ السلام کی کشتی کس ملک میں ہے؟ ویڈیو دیکھیں

اللہ رب العزت نے انسان کی رہنمائی اور اصلاح کے لیے دنیا میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر و انبیاء مبعوث فرمائے جنہوں نے اللہ کی وحدانیت اور احکامات لوگوں تک پہنچائے۔

پیغمبروں اور انبیاء نے اللہ کی جانب سے ملنے والے احکامات اور تعلیمات کو دنیا میں بسنے والے لوگوں تک پہنچایا اور خدائے رب ذوالجلال کی عبادت کا درس دیا۔ دنیا میں بھیجے جانے والے انبیاء کی طویل داستان ہے جنہوں نے لوگوں کر صراط مستقیم پر لانے کی انتھک جدوجہد کی اور ربِ ذوالجلال کا پیغام پہنچانے کی کوشش کی۔

اسی طرح خدائے ربِ ذوالجلال نے دعوت و تبلیغ کے لیے دنیا میں حضرت نوح علیہ السلام کو بھیجا، جنہوں نے 9سو سال تک اپنی امت کو  راہِ راست (دین حق)  پر آنے کا درس دیا تاہم صرف 80 لوگ اُن پر ایمان لائے۔

حضرتِ نوحؑ السلام کا تعلق حضرتِ آدم کی نویں یا دسویں پشت ہے جبکہ شجرہ نسب کے حساب سے آپ حضرت ادریسؑ کے پڑ پوتے بھی ہیں، آپؑ نے  اپنی امت کے لوگوں کو حسن عقائد اور اصلاحِ اعمال کی طرف 9 سو سال تک راغب کیا جن میں سے صرف 80 لوگ ایمان لائے۔

محققین کا کہنا ہے کہ حضرت نوحؑ نے عراق کے شہر رافدین میں تبلیغ کی کیونکہ اس علاقے میں آپ کی موجودگی کے آثار ملتے ہیں جبکہ اس شہر کی تاریخ میں جس اصلاح پسند شخص کا ذکر ہے اُن کے احوال حضرت نوح سے ملتے ہیں اسی طرح طوفانِ نوح کے آنے کے واقعے کی طرز پر اس علاقے میں عذاب آنے کے اثرات بھی موجود ہیں اسی بنیاد پر مورخین نے ’بلاد الرافدین‘ کو حضرتِ نوح کامسکن قرار دیا۔

خدائے رب ذوالجلال نے حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا جو انہوں نے تیار کی اور طوفان میں وہی کشتی اہل حق کو محفوظ رکھنے میں کام آئی جبکہ دنیا کے جو لوگ بھی آپؑ کی تعلیمات پر ایمان نہیں لائے وہ تباہ ہوگئے۔

 چینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ’وہ یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ کشتی نوح علیہ السلام کے استعمال میں رہنے والی کشتی ہے، جو انہوں نے چار ہزار 8 سو سال قبل مسیح اللہ کے حکم سے بنائی تھی‘۔

مشہور جریدے کرسچن سائنس مانیٹر کے ماہرین کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی کی باقیات ترکی کے مشرقی علاقے میں واقع کوہِ ارہارات سے ملی ہیں، یہ ایک چوٹی ہے جس کی اونچائی 14 ہزار فٹ بلند ہے۔

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی تین سو گز لمبی، 50 گز چوڑی اور تیس گز اونچی تھی، جو 6 ماہ 8 دن تک پانی پر تیرتی رہی اور 10 محرم الحرام کو جودی پہاڑ پر ٹھہری اور پھر آپؑ اپنی قوم کے ساتھ نیچے اترے۔

مسلم محققین کے مطابق کشتی کے رکنے کا مقام ‘جودی پہاڑ‘ تھی، جو کوہِ کردا کا حصہ ہے، یہ علاقہ جذیرہ ابن عمر کے قریب میں واقع ہے، اس کشتی کی تین منزلیں ہیں جو کئی میٹر برف کے نیچے دبی رہی۔

مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب پانی کم ہوا تو حضرتِ نوح نے خسران شہر آباد فرمایا اور مسجد تعمیر کی جسے ’سمانین‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، واضح رہے کہ حضرتِ نوح کا مزارِ مبارک لبنان میں واقع ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں