The news is by your side.

Advertisement

بی جے پی "تاج محل” کا کون سا راز جاننے عدالت پہنچی ہے؟

بھارت کے شہر آگرہ میں واقع مغلیہ دور کی یادگار "تاج محل” کو دنیا بھر میں محبت کے لازوال جذبے کی علامت مانا جاتا ہے تاہم ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی اس معاملے پر عدالت پہنچ گئی ہے۔

سفید سنگ مرمر سے بنی دلفریب طرز تعمیر کا حامل تاج محل اپنی انفرادیت کے باعث دنیا کے عجائبات میں شامل ہے اور اس کو دنیا بھر میں محبت کے لازوال جذبے کا عملی اظہار مانا جاتا ہے جو مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی محبوب بیوی ممتاز محل کی یاد میں تعمیر کیا تھا آج بھی نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں سمیت مختلف ممالک کے سربراہان دورہ بھارت کے موقع پر تاج محل کو دیکھنا اور یہاں تصویر بنوانا اعزاز سمجھتے ہیں اور یوں صدیوں پرانے دو محبت کرنے والوں کی محبت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

بھارت میں ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی جب سے اقتدار میں آئی ہے اپنے ہندو توا نظریے کے پرچار کے لیے آئے دن اقلیت بالخصوص مسلمانوں کیخلاف برسرپیکار ہے اور اس سلسلے میں وہ مسلم حکمرانوں کی یادگاروں کو بھی نہیں بخش رہی ہے۔

ایک بھارتی اخبار کے مطابق حال ہی میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کے لکھنو بینچ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایودھیہ ضلع کے میڈیا انچارج ڈاکٹر راجنیش سنگھ نے تاج محل میں موجود 20 کمروں کو کھلوانے کیلیے پٹیشن دائر کی ہے جو یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا تاج محل کے ان 20 کمروں میں ہندو مورتیوں اور تاریخی عبارات کو چھپایا گیا ہے؟ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ رودرا وکرم ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔

عدالت میں دائر پٹیشن میں درخواست گزار ڈاکٹر راجنیش سنگھ کا کہنا ہے کہ ’تاج محل سے متعلق ایک پرانا تنازع ہے۔ قریباً 20 کمروں کو تالے لگے ہوئے ہیں اور اس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کمروں میں ہندو دیوتاؤں کی مورتیاں اور مقدس عبارات موجود ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’آرکیالوجیکل سروے کو ہدایت دی جائے کہ ان کمروں کو کھول کر حقیقت معلوم کی جائے اور ان کمروں کو کھولنے میں کوئی نقصان نہیں۔‘

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان کمروں کی حقیقت جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ 2020 سے ڈاکٹر راجنیش سنگھ ان کمروں کی حقیقت کے بارے میں جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ معلومات حاصل کرنے کے حق (آر ٹی آئی) کے قانون کی بنیاد پر ایک درخواست دائر کی تھی جس کے جواب میں کہا گیا کہ ان کمروں کو سکیورٹی وجوہات کی بنا پر تالے لگائے گئے ہیں اور ’اس وقت ان کمروں کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئی تھیں اور جب ان کی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو میں نے لکھنو کے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

واضح رہے کہ سخت گیر ہندو تنطیمیں تاج محل کو ’تیجو مہلایا کا مندر‘ قرار دیتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں