The news is by your side.

Advertisement

کرونا ویکسینیشن کے باوجود وائرس کا پھیلاؤ، ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کا پریشان کن بیان

جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ نے کرونا ویکسینیشن کے باوجود وائرس میں اضافے کو پریشان کن قرار دیتے  ہوئے  تمام ممالک کو محتاط اور چوکنّا رہنے کا مشورہ دے دیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اڈہانوم نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا پر قابو پانے کے لیے ویکسین کی منصفّانہ تقسیم بہت زیادہ ضروری ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کوویکس منصوبے کے تحت گھانا اور آئیوری کوسٹ میں ویکسینیشن کا آغاز کردیا گیا ہے، کرونا ویکسین کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک منصوبے پر کام جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کرونا ویکسین کی منصفانہ فراہمی کے لیے 23 کروڑ 70 لاکھ خوراکیں 142 ممالک کے لیے مختص کی جائیں گی جو انہیں مئی کے آخر تک فراہم کردی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: خون کا ٹیسٹ کرونا وائرس کی شدت کے بارے میں بتا سکتا ہے

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس کی نئی اقسام کے حوالے سے تشویشناک انکشاف

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ اُن ممالک کو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے جنہیں خوراکوں کے حصول میں تاخیر کا سامنا ہے کیونکہ اب بھیغیر منصفانہ تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹیڈروس نے نشاندہی کی کہ گزشتہ ماہ دنیا بھر میں 7 ہفتوں کے دوران کرونا ویکسینیشن کے باوجود وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرونا میں پھیلاؤ کی ممکنہ وجہ عوامی صحت کے اقدامات میں نرمی اور وائرس کی متغیر اقسام ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نےایک بار پھر زور دیا کہ کرونا ویکسینز پر انحصار کیے بغیر بنیادی عوامی صحت کے اقدامات جاری رکھنے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی ضرورت ہے تاکہ ہم کرونا کی صورت حال سے نمٹ سکیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں