The news is by your side.

Advertisement

نعمان علی نے اپنی پرفارمنس کس کے نام کردی؟ جانئے ویڈیو میں

کراچی: جنوبی افریقہ کے خلاف ڈیبیو ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے والے اسپنر نعمان علی ٹیسٹ کیپ ملنے سے قبل کس کیفیت میں مبتلا تھے، جانئے ان ہی کی زبانی۔

تفصیلات کے مطابق اپنے انٹرویو میں اسپنر نعمان علی نے بتایا کہ کراچی کو اپنا ہوم گراؤنڈ سمجھتا ہوں، بیشتر کرکٹ یہی کھیلی ہے، مجھے اندازہ تھا کہ کراچی میں نمی کے باعث اسپنرز کو سپورٹ ملتی ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

میچ سے قبل ٹیسٹ کیپ ملنے سے متعلق نعمان علی نے بتایا کہ ٹیسٹ کیپ ملی تو تو تھوڑا نروس تھا، ساتھی کھلاڑیوں نے بہت حوصلہ دیا، جنوبی افریقہ کے خلاف ٹاس ہارے اور ہم نے بولنگ شروع کی جب کپتان بابر اعظم نے مجھے گیند تھمائی اور کہا کہ جیسے ڈومیسٹک میں پرفارم کرتے رہے، ایسے ہی اپنی بولنگ رکھنا۔

کراچی ٹیسٹ میں فواد عالم اور اظہر علی کے درمیان شراکت داری کو میچ کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے نعمان علی کا کہنا تھا کہ پہلی اننگز میں ہیڈ کوچ اور بیٹنگ کوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ پہلی اننگز میں زیادہ سے زیادہ رنز اسکور کئے جائیں تاکہ مہمان ٹیم کو پریشر میں لاسکے، یہ ہدایت ذہن میں رکھ کر میں نے اور حسن علی نے آخری وکٹ کی شراکت داری میں 55 رنز کا اضافہ کیا۔

نعمان علی نے جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز میں کپتان بابراعظم کی حکمت عملی کو بہترین قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یاسر شاہ اور میں نے بولنگ کے ذریعے مہمان ٹیم پر پریشر بڑھایا، جس کا فائدہ ہمیں وکٹیں ملنےکی صورت میں ملا۔

کراچی ٹیسٹ کے چوتھے روز حسن علی کی پہلی گیند پر وکٹ حاصل کرنے کو نعمان علی نے یادگار قرار دیتے ہوئے بتایا کہ دن کے آغاز پر وکٹ ملنے سے جنوبی افریقہ ٹیم پریشر میں آئی اور ان کی وکٹیں گر گئیں۔

اسپنر نعمان علی کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف دوسری اننگز میں 5 وکٹیں لینا میرے لئے اعزاز ہے، جس کے باعث میرے اعتماد میں اضافہ ہوا، انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ قومی ٹیم راولپنڈٰ ٹیسٹ میں بھی اس قسم کی کارکردگی دکھائے گی۔

اٹھارہ سال تک انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کا خواب دیکھنے والے نعمان علی کا کہنا تھا کہ کراچی ٹیسٹ میں عمدہ کارکردگی اپنی بیٹی “عائزہ نعمان” کے نام کرتا ہوں، کیونکہ بائیو سیکیور ببل کے باعث کافی عرصے سے بیٹی سے نہیں مل سکا ہوں،اس کے علاوہ ان تمام لوگوں کا بے حد شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے بھرپور سپورٹ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں