The news is by your side.

Advertisement

کرونا مریضوں‌ کے لیے استعمال ہونے والی دوا پر ڈبلیو ایچ او کے شکوک و شبہات

جینیوا: عالمی ادارہ صحت نے کرونا کی روک تھام کے لیے استعمال ہونے والی دوا ریمیڈی سیور سمیت دو ادویات پر شکوک و شبہات کا اظہار کردیا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی کی تیار کردہ دوا ریمیڈی سیور کو کرونا علاج کے لیے مؤثر قرار دیا گیا تھا مگر اب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس دوا کے استعمال پر شکوک و شبہات ظاہر کردیے۔

ڈبلیو ایچ او کے ماتحت ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکی کمپنی کی یہ دوا کرونا وائرس کے لیے مؤثر نہیں اور نہ ہی اس کے استعمال سے مریضوں کی اموات یا جلد صحت یابی میں خاص فرق نظر آیا۔

عالمی ادارۂ صحت کے پینل میں شامل بین الاقوامی طبی ماہرین نے ریمیڈی سیور سمیت دیگر تین اُن ادویات کا جائزہ لیا جو تیس ممالک میں گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کو استعمال کرائی جاچکی ہیں۔

مزید پڑھیں: سائنس دانوں کا چینی کرونا ویکسین سے متعلق بڑا بیان سامنے آ گیا

ماہرین نے تمام مریضوں کے حاصل کردہ ڈیٹا کا بغور مشاہدہ کیا جس کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ریمیڈی سیور سمیت تینوں دوائیں کسی کام کی نہیں ہیں اور نہ ہی اس سے مریضوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ماہرین نے ریمیڈی سیور، ہائیڈرو آکسی کلوروکوئن، لوپینویر اور انٹرفیرون کو ہی بے سود قرار دیا کیونکہ ان کے استعمال کے باوجود مریضوں کی صحت پر کوئی معمولی فرق بھی نہیں پڑا۔

ماہرین کے مطابق ان تینوں دواؤں کے استعما ل سے اموات کی مجموعی شرح، وینٹی لیٹر پر مریضوں کی منتقلی، اسپتال میں علاج کے دورانیے کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نظر آیا کیونکہ جن مریضوں کو یہ ادویات استعمال نہیں کی گئی اُن کے نتائج بھی ایک جیسے ہی تھے۔

یہ بھی پڑھیں: نوجوانوں اور صحت مند افراد کو کرونا ویکسین کے لیے مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے مگر اسے ایک پری پرنٹ سرور پر شائع کیا گیاہے۔ محققین نے 2750 مریضوں کو ریمیڈی سیور استعمال کروائی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس کے مریضوں کی اموات کی روک تھام یا اسپتال میں قیام کے دورانیے پر کوئی خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں