The news is by your side.

Advertisement

نوجوانوں اور صحت مند افراد کو کرونا ویکسین کے لیے مزید کتنا انتظار کرنا پڑے گا؟

جینیوا: عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی چیف سائنسدان ڈاکٹر سومیا سوامی ناتھن نوجوانوں اور صحت مند افراد کو کرونا ویکسین کے لیے 2 سال تک انتظار کرنا پڑے گا۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سومیا سوامی کا کہنا تھا کہ ’صحت مند افراد اور نوجوانوں کو ویکسین کے حصول کے لیے 2022 تک انتظار کرنا پڑے گا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ویکسین سب سے پہلے طبی عملے اور تشویشناک حالت میں مبتلا مریضوں کو دی جائے گی تاکہ اُن کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ ’کرونا کی روک تھام کے لیے مختلف ویکسینز کے ٹرائلز جاری ہیں، ہم مؤثر اور حوصلہ افزا ویکسین کی دریافت تک اپنے کام کو اسی طرح جاری رکھیں گے اور ایسی دوا بنانے کی کوشش کریں گے جو تیزی سے کام کرنے والی ہو اور یہ وائرس کو جلدی ہلاک کرے‘۔

مزید پڑھیں: نمی والے مقامات پر کرونا کا تیزی سے پھیلاؤ، سپرکمپیوٹر کی تہلکہ خیز فوٹیج

ڈاکٹر سومیا کا کہنا تھا کہ ’متعدد لوگوں کا ماننا ہے کہ ہیلتھ کیئر اور کرونا کے خلاف پہلی صف میں لڑنے والے رضاکاروں کو سب سے پہلے پھر تشویشناک مریضوں  اور ضعیف لوگوں کو ویکسین فراہم کی جائے‘۔

انہوں نے ساتھ میں یہ امید بھی ظاہر کی کہ کرونا ویکسین 2021 کے آغاز تک نہ صرف مکمل ہوجائے گی بلکہ یہ محدود تعداد میں مختلف ممالک میں دستیاب بھی ہوگی۔

کرونا کی دوسری لہر اور ایک بار پھر بڑھتے ہوئے کیسز پر ڈاکٹر سومیا نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر ہم نے روک تھام کے لیے سخت اقدامات نہ کیے تو پہلے سے زیادہ ہلاکتیں ہوسکتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں