The news is by your side.

Advertisement

ڈیکسا میتھاسون کے استعمال پر عالمی ادارہ صحت کا ردعمل آگیا

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا ہے کہ ڈیکسا میتھاسون دوا شدید کرونا مریضوں پر اثر ظاہر کرتی ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے ڈییکسا میتھاسون کے برطانیہ سے ابتدائی آزمائش کے مثبت نتائج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آکسیجن، وینٹی لیٹر کے مریضوں میں دوا سے موت کی شرح کو کم کرتے دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا کہ ڈیکسا میتھاسون نے سانس میں تکلیف نہ ہونے والے مریضوں پر فائدہ نہیں دکھایا، دوا کو صرف قریبی کلینکل نگرانی میں استعمال کیا جانا چاہئے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیکسا میتھاسون 1957 میں ایجاد ہوئی اور 1960 میں اس کا استعمال شروع کیا گیا، ڈیکسا میتھاسون عالمی ادارہ صحت کی ضروری ادویات کی لسٹ میں بھی شامل ہے۔

مزید پڑھیں: ڈیکسا میتھاسون نے کرونا مریض کی جان بچا لی

یاد رہے کہ گزشتہ روز برطانیہ کے سائنسدانوں نے اسٹیرائیڈ دوا ڈیکسا میتھاسون کو کرونا وائرس کے علاج میں انتہائی موثر قرار دیا تھا۔ برطانوی سائنسدان پروفیسر پیٹر ہاربے کا کہنا تھا کہ یہ اب تک کی پہلی دوا ہے جس نے کرونا میں اموات کو کم کر کے دکھایا ہے اور یہ ایک اہم پیشرفت ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے، ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو، اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں