The news is by your side.

Advertisement

بچے جھوٹ کیوں بولتے ہیں ؟

والدین اکثر اوقات یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان کے بچوں کو جھوٹ بولنے کی عادت پڑچکی ہے مگر وہ کبھی اس عادت کی وجہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے اور یہی ان کی غلطی ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ماہر نفسیات ڈاکٹر معیز نے بچوں میں جھوٹ بولنے کی عادت اور والدین کی ذمہ داری سے متعلق اپنی ماہرانہ رائے سے آگاہ کیا۔

ڈاکٹر معیز نے بتایا کہ بچوں کے جھوٹ بولنے کی دو بڑی وجوہات ہوتی ہیں پہلی لالچ اور دوسرا سزا کا خوف، اگر والدین بچے کی اس روش کو محسوس نہیں کرتے یا اس پر کوئی ایکشن نہیں لیتے تو بعد میں یہ بچوں کی عادت سی بن جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر والدین کو لگتا ہے کہ بچے نے جھوٹ بولا ہے تو ان کا چاہیے کہ اس کو بلاوجہ نہ ڈانٹیں اور نہ ہی اس کے بارے میں فوری طور پر کوئی رائے قائم کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی تربیت کے دوران دو قسم کے رویے ان کی شخصیت کو تباہ کردیتے ہیں۔ پہلا یہ کہ ان کے حوالے سے فوری کوئی رائے قائم کرنا اور دوسرا کسی اور بچے کے ساتھ اس کا موازنہ کرنا۔

اس کے علاوہ اسکولوں میں اساتذہ کرام بھی جلتی پہ تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں اور تعلیمی دباؤ ڈالتے دکھائی دیتے ہیں اور تعلیمی کارکردگی اچھی نہ ہونے پر بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کا نشانہ بناتے ہیں۔

بچے اکثر والدین کو جاکر اپنے اسکول کے حالات سے آگاہ نہیں کرتے اور نہ ہی تعلیمی کارکردگی کے متعلق کوئی رپورٹ دکھاتے ہیں اور اکثر والدین اور اساتذہ کے دباؤ میں آکر نہ صرف جھوٹ بولتے ہیں بلکہ بہت سی برائیوں اور ذہنی امراض کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین اور اساتذہ اس مسئلہ کی جانب خاص توجہ دیں اور بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں اور انہیں اعتماد میں لیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے اور پھر پچھتاوے کے سوا کچھ نہ رہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں